.jpg?rect=0%2C0%2C1233%2C694)
دیپانکر بھٹاچاریہ (فائل)، تصویر آئی اے این ایس
پٹنہ: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا ہے کہ تعلیم کی نجکاری، کاروبار یانے اور مرکزیت کے خلاف اساتذہ کو اپنے سماجی کردار کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے مسئلے کو صرف اساتذہ کی ملازمت اور سروس شرائط تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ تعلیمی نظام میں ہونے والی نظریاتی مداخلت کے خلاف بھی وسیع بحث اور تحریک کی ضرورت ہے۔
پٹنہ کے آئی ایم اے ہال میں منعقدہ ’تعلیم بچاؤ، ملک بچاؤ‘ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دیپانکر بھٹاچاریہ نے نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے خلاف اساتذہ کی وسیع یکجہتی اور طلبہ تحریکوں کی حمایت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا، سنیما اور تعلیمی اداروں کے ذریعے معاشرے کی سوچ کو متاثر کرنے کی کوششوں کے درمیان اساتذہ کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بہار میں تعلیم کی صورت حال طویل عرصے سے تشویش کا موضوع رہی ہے۔ نتیش کمار حکومت نے تعلیمی اصلاحات کمیشن کے ذریعے یکساں اسکول نظام کی سمت میں پہل کی تھی، لیکن اس کی رپورٹ کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ اسی طرح اراضی اصلاحات کمیشن کی رپورٹ بھی نافذ نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق بہار میں جن شعبوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے، ان میں تعلیم بھی نمایاں ہے۔
دیپانکر نے شہریت قانون کے خلاف تحریک، کسانوں اور مزدوروں کی تحریکوں اور پیپر لیک کے خلاف ہونے والی طلبہ تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں اسکولی طلبہ کے درمیان ’اسکول ٹھیک کرو‘ جیسے مطالبات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنریشن الفا کے ان احتجاجی اقدامات میں اساتذہ کو بھی شریک ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بہار میں ایس آئی آر کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے اور اس عمل میں اساتذہ کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ اب اساتذہ کو ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے افراد کے نام دوبارہ شامل کرانے کی جمہوری مہم میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔
دیپانکر نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور جیوتی با پھولے و ساوتری بائی پھولے کے تعلیم اور سماجی مساوات سے متعلق نظریات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پورے سال تعلیم، سماجی مساوات اور پھولے-امبیڈکر کی فکر کے حوالے سے وسیع مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
سیمینار کے افتتاح کنندہ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر راجیو کنور نے کہا کہ تعلیم مشترکہ فہرست کا موضوع ہے، لیکن نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعے اس کی بڑھتی ہوئی مرکزیت سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تحریک کو مضبوط بنانے کے لیے تعلیم کو وسیع عوامی تحریک کا مسئلہ بنانا ہوگا۔
پالی گنج کے رکن اسمبلی سندیپ سوربھ نے کہا کہ بہار کے اساتذہ کو سرکاری استاد کا درجہ ملنے کے باوجود ابھی سرکاری تنخواہ اور مناسب حقوق حاصل نہیں ہیں۔ قانون ساز کونسل کی رکن ششی یادو نے تعلیم کی نجکاری، کاروباریانے اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کے خلاف آواز بلند کرنے اور طلبہ تحریکوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔