
سپریم کورٹ آف انڈیا
راجدھانی دہلی اور قرب و جوار میں ہوئی عصمت دری کے حالیہ واقعات اور دہلی میں چلتی سلیپر بس میں نابالغ کے ساتھ جنسی زیادتی معاملے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ان معاملوں سے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی ناکامی واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ عوامی مقامات، جن میں پارک اور بسیں بھی شامل ہیں، ان میں روشنی کی کمی، نگرانی کے کمزور نظام اور دیگر انتظامی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے خطرناک علاقے بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے عدالت کی رجسٹری کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں، اور ایک مفاد عامہ کی عرضی درج کریں اور اسے سماعت کے لیے فہرست بند کریں۔ کورٹ نے کہا کہ محض اظہار یکجہتی کافی نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ ذمہ داری طے کی جائے اور جوابدہی بھی یقینی بنائی جائے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق جسٹس بی پاردیوالا نے کہا کہ یہ واقعات 2012 نربھیا معاملے کی دردناک یادیں تازہ کر دیتے ہیں۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا گزشتہ ایک دہائی میں قانون نافذ کرنے والے انتظام میں کوئی معقول بہتر آئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ راجدھانی دہلی میں گزشتہ ماہ نربھیا جیسا معاملہ سامنے آیا تھا، جس نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گریٹر نوئیڈا سے دہلی کشمیری گیٹ کے درمیان چلنے والی ایک سلیپر بس میں یہ واردات انجام دی گئی تھی۔ بس میں 16 سالہ طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے اجتماعی عصمت دری کی۔ معاملہ دہلی کے کشمیری گیٹ تھانہ علاقے کا بتایا جا رہا ہے۔ پولیس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ معاملہ 4 اگست 2026 کا بتایا گیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس کو بھی ضبط کر لیا ہے۔ متاثرہ مین پوری ضلع کی رہنے والی ہے اور 11 ویں جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ طالبہ 3 اگست 2026 کو اپنے گھر سے بغیر بتائے نکلی تھی۔ طالبہ اپنی والدہ کی ڈانٹ سے ناراض تھی۔ اس کا ارادہ نوئیڈا سیکٹر 63 میں رہنے والے چچا زاد بھائی کے گھر جانے کا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔