قومی خبریں

’این سی ایل ٹی اور این سی ایل اے ٹی‘ کے خستہ حال ڈھانچے پر سپریم کورٹ سخت، 4 ہفتوں میں تجاویز طلب

سپریم کورٹ نے این سی ایل ٹی سے اس بات پر بھی غور کرنے کو کہا کہ ہر بنچ میں عدالتی ریکارڈ کی دیکھ بھال کے لیے ڈپٹی رجسٹرار یا جوائنٹ رجسٹرار کی سطح کے افسر کی تقرری کتنی مفید ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) اور نیشنل کمپنی لا اپیلیٹ ٹریبونل (این سی ایل اے ٹی) میں بنیادی سہولیات کی کمی پر سپریم کورٹ نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے دونوں ٹریبونلز کے سربراہان سے عمارتوں، زمین، بنیادی ڈھانچے اور عملے کی ضروریات کے حوالے سے تفصیلی تجویز طلب کی ہے۔ عدالت نے امید ظاہر کی کہ ضروری معلومات 4 ہفتوں کے اندر اس کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔

جمعرات (29 اکتوبر) کو سماعت کے دوران سینئر وکیل سنجیو سین نے این سی ایل ٹی کی مرکزی بنچ میں بنیادی ڈھانچے کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ وہاں بنیادی ڈھانچہ خستہ حالی کا شکار ہے، 2 منزلیں بند ہیں اور عدالتیں اپنی نصف صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اس سے ٹریبونل کے روزمرہ کے کام کاج پر اثر پڑ رہا ہے۔

سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ این سی ایل ٹی اور این سی ایل اے ٹی کے سربراہان ہی اپنے اداروں کی ضروریات کا بہترین اندازہ لگا سکتے ہیں، اس لیے دونوں سے ایسی جامع تجویز تیار کرنے کو کہا گیا ہے جس میں ٹریبونلز کے ہموار اور مؤثر کام کاج کے لیے درکار وسائل کی تفصیلات ہوں۔ سپریم کورٹ نے این سی ایل ٹی سے اس بات پر بھی غور کرنے کو کہا کہ ہر بنچ میں عدالتی ریکارڈ کی دیکھ بھال کے لیے ڈپٹی رجسٹرار یا جوائنٹ رجسٹرار کی سطح کے افسر کی تقرری کتنی مفید ہوگی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے تجویز دی کہ حکومت، ٹریبونلز کی قیادت اور وکلاء کی تنظیم کے نمائندوں کے درمیان مشترکہ میٹنگ منعقد کی جائے۔ اس میٹنگ میں ضروریات کی نشاندہی کر کے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے بھی کہا کہ این سی ایل ٹی اور این سی ایل اے ٹی کو ضروری بنیادی سہولیات جلد فراہم کرنے کی سمت میں کوششیں کی جائیں۔

قابل ذکر ہے کہ این سی ایل ٹی اور این سی ایل اے ٹی میں بنیادی ڈھانچے، اراکین اور ملازمین کی کمی کا معاملہ پہلے بھی سپریم کورٹ کے سامنے اٹھایا جا چکا ہے۔ عدالت ان ٹریبونلز میں عدالتی اور تکنیکی اراکین کی تقرری اور ناکافی سہولیات سے متعلق معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ اب دونوں ٹریبونلز کے سربراہان سے تفصیلی تجویز طلب کیے جانے کے بعد ان کی ضروریات کا جائزہ لے کر مزید کارروائی کی جا سکے گی۔ عدالت کا زور اس بات پر ہے کہ ان اداروں کے روزمرہ کے کام کاج کو بہتر بنانے کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔