
علامتی تصویر / اے آئی
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں بڑھتی فضائی آلودگی پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور پرالی جلانے کے علاوہ مقامی سطح پر آلودگی کے اسباب پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ دہلی کو این سی آر کے دیگر علاقوں سے جوڑنے والی سڑکوں پر گاڑیوں کی بڑی تعداد اور ان سے پیدا ہونے والا دھواں آلودگی کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
فضائی آلودگی کے معاملے پر جمعہ کو ازخود نوٹس کے تحت سماعت کے دوران چیف جسٹس نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’امید ہے کہ آپ سبھی دہلی کے موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بارش سے آلودگی کی سطح میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، لیکن اس کے باوجود صورت حال تشویش ناک ہے۔
عدالت کی معاون امیکس کیوری (قانون دوست) اپراجیتا سنگھ نے بتایا کہ 5 نومبر کو دہلی کی آلودگی میں پرالی جلانے کا حصہ 14 فیصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں پہلے ہی آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہے اور پرالی جلانے سے صورت حال مزید خراب ہوتی ہے۔ ان کے مطابق گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی سب سے بڑی مقامی پریشانی ہے۔ کچرا جلانا اور دیگر سرگرمیاں بھی اس میں اضافہ کر رہی ہیں۔
چیف جسٹس نے غازی آباد، گریٹر نوئیڈا، گروگرام اور فریدآباد کو دہلی سے جوڑنے والی سڑکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں سے آنے والی گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی آلودگی کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ تمام اقدامات کے باوجود آلودگی دوبارہ کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیا اس کی بنیادی وجہ گاڑیوں کی آمدورفت ہے، خواہ ان میں کسی بھی معیار کا ایندھن استعمال کیا جا رہا ہو؟
مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے بتایا کہ حکومت فوری، درمیانی مدت اور طویل مدتی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ ہریانہ اور پنجاب میں پرالی جلانے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں کے موسم میں بی ایس-4 گاڑیوں کے داخلے پر نومبر سے جنوری کے آخر تک پابندی نافذ ہے اور اس پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
اس پر عدالت نے کسانوں کو پرالی جلانے سے روکنے کے لیے مالی ترغیبات دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب کسان اس کے معاشی فائدے کو سمجھیں گے تو وہ پرالی جلانا بند کر دیں گے، تاہم اس میں وقت لگے گا۔ عدالت نے تجویز دی کہ حکومت کسانوں سے ایک مقررہ قیمت پر پرالی خریدے، تاکہ اسے جلانے کے بجائے فروخت کرنے میں ان کا مالی فائدہ ہو۔ اس کے علاوہ مہنگی مشینیں ہر کسان کو دینے کے بجائے گرام پنچایتوں کو فراہم کی جائیں، تاکہ گاؤں کے تمام کسان ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔
امیکس کیوری نے نشاندہی کی کہ چھوٹے کسانوں کے لیے پرالی ہٹانے والی مشینوں کا استعمال مہنگا پڑتا ہے۔ ان کے پاس مشینیں چلانے کے لیے ڈیزل خریدنے تک کے پیسے نہیں ہوتے۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری ادارے اور کوآپریٹو سوسائٹیاں پرالی کی خریداری اور اس کے تجارتی استعمال کے لیے آگے آ سکتی ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سڑک کنارے کام کرنے والے غریب لوگ آلودگی پیدا کرنے والے نہیں بلکہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔ مہنگی گاڑیاں خرید کر انہیں سماجی حیثیت کی علامت بنانے والے طبقے کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ انہوں نے آلودگی سے نمٹنے کے لیے پرانے اور ناکام طریقوں کے بجائے سائنسی حل اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی سوال اٹھایا۔
عدالت نے بچوں کی صحت پر آلودگی کے اثرات کو بھی تشویش ناک قرار دیا۔ جسٹس جوی مالیا باگچی نے کہا کہ عدالت بچوں کے اسکول جانے پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں ہے، کیونکہ آن لائن تعلیم کے معیار اور اس تک غریب بچوں کی رسائی کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ امیکس کیوری نے بتایا کہ بعض غریب بچے اسکول میں ملنے والے دوپہر کے کھانے پر انحصار کرتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ دہلی پہلے ہی انتہائی خراب فضائی معیار کی زد میں ہے اور نومبر سے جنوری کے درمیان بیشتر دنوں میں اے کیو آئی 300 سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔ عدالت نے مرکز سے آلودگی کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کے اقدامات بھی دریافت کیے اور کہا کہ دیوالی کا تہوار عوامی شعور کے ساتھ منایا جانا چاہیے۔
مرکزی حکومت نے بیداری مہم تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پیش کردہ دستاویزات کا جائزہ لے گی اور ضرورت پڑنے پر ریاستوں سے عمل درآمد کی رپورٹ اور تازہ معلومات طلب کرے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ دیوالی کی تعطیلات کے فوراً بعد اس معاملے پر دوبارہ سماعت ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔