
سپریا سولے / سوشل میڈیا
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں پیش کیے جانے والے خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر شرد پوار کی این سی پی نے ابھی اپنا رخ واضح نہیں کیا ہے۔ بدھ کے روز این سی پی (شرد پوار) کی کارگزار صدر سپریا سولے نے ممبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر 50 فیصد سیٹیں بڑھانے کی شرط نافذ کی جاتی ہے تو ہم اس کی حمایت کرنے پر غور کریں گے۔
سپریا سولے نے کہا کہ حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت کو 50 فیصد نشستیں بڑھانے کی تجویز باضابطہ طور پر پیش کرنی چاہیے۔ اگر انڈیا اتحاد اس پر متفق ہوتا ہے تو ہم اس پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ میرا صرف اتنا کہنا ہے کہ پہلے 50 فیصد سیٹیں بڑھانے کی شرط کو تحریری شکل میں لایا جائے، اس کے بعد ہم اس پر گفتگو کریں گے۔ فی الحال ہمارے سامنے ایسی کوئی تحریری تجویز موجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ وہ 50 فیصد سیٹیں بڑھانے کے حق میں ہیں، لیکن اس بات کو بل میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں سپریا سولے نے کہا کہ ’’نیا بل ابھی تک ہمارے پاس نہیں پہنچا ہے، تو اسے دیکھے بغیر میں اس پر کیسے بات کر سکتی ہوں؟ ایک بار جب بل پیش ہو جائے گا تو میں 24 گھنٹوں کے اندر اس کا مطالعہ کر کے اپنا موقف واضح کر سکتی ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے آپ اس معاملے کی تاریخ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس بل کی حقیقت یہ ہے کہ جب اس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، تب ہندوستان کی پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل ایک ووٹ سے منظور ہوا تھا۔ یہی اس ملک کی خصوصیت ہے، اس لیے خواتین ریزرویشن بل کو متفقہ طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ اس ملک میں ہم سب نے اسے ایک ووٹ سے منظور کیا ہے۔‘‘
سپریا سولے نے میڈیا اہلکاروں کو بتایا کہ پریس کانفرنس میں پہنچنے سے پہلے انھوں نے کانگریس صدر، سنجے راؤت اور بنٹی پاٹل دادا کے ساتھ تفصیل سے بات چیت کی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں آج یہاں شرد پوار، جینت راؤ اور ششی کانت شندے سے مشورہ کرنے اور اس معاملے پر اپنے تمام اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو معلومات دینے کے بعد بیٹھی ہوں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’اکثر غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ کون ناگپور میں ہے؟ کون کہاں ہے؟ کوئی رپورٹر مائک لے کر آ جاتا ہے۔ بیچارے کو اس کے ہیڈ آفس سے ہدایات ملی ہوتی ہیں، اس لیے وہی سوال پوچھتا ہے جو اسے پوچھنے کے لیے کہا جاتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’مجھے لگا کہ کچھ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے۔ اسی لیے میں نے یہ پریس کانفرنس بلائی تاکہ آپ کے سوالوں کا جواب دے سکوں اور پارٹی کا واضح موقف سامنے رکھ سکوں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔