
علامتی تصویر، آئی اے این ایس
آئی آئی ٹی کانپور میں ’بی ٹیک سائبر سیکورٹی کورس‘ سے داخلہ مسترد کیے جانے پر ایک طالب علم نے ادارے کی ویب سائٹ ہیک کر لی اور انگریزی میں ایک پیغام بھی چھوڑا کہ ’سائٹ ہیک ہو گئی ہے، مجھے بس ایک مناسب موقع کی ضرورت ہے۔‘ طالب علم نے ’ایکس‘ اور ’ریڈیٹ‘ پر اسکرین شارٹ شیئر کر کے اپنی سائبر سیکورٹی کی مہارت کو ثابت کرنے اور موقع دیے جانے کی بات کی۔
دوسری جانب قانونی کارروائی کی جگہ ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر منیندرا اگروال نے طالب علم کا مستقبل محفوظ رکھنے پر زور دیا۔ پروفیسر نے کہا، ’’آئی آئی ٹی کانپور میں ایڈمیشن کا سلسلہ پہلے ہی بند ہو چکا ہے اور اس میں قانونی اور ادارے کے طریقہ کار کے پہلو بھی شامل تھے۔ پھر بھی ہم طالب علم کا مستقبل خراب ہونے نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس لیے ہم نے اسے ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ’سی 3 آئی ہب‘ میں انٹرن شپ کے لیے اس پر غور کر رہے ہیں۔ وہ آئندہ سال داخلے کے لیے کوشش کر سکتا ہے۔‘‘
انہوں دوسرے طلبہ کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ موقع حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے طریقۂ کار اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم سائبر سیکورٹی میں مہارت رکھنے والوں کا استقبال کرتے ہیں۔ ایسے طالب علم اپنا ’سی وی‘ ہمارے ساتھ شیئر کریں اور ہم ’سی 3 آئی ہب‘ میں انٹرن شپ یا ملازمت کے لیے غور کریں گے۔ طلباء کو چاہئے کہ اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے صحیح اور قانونی طریقہ کار پر عمل کریں، اور کسی کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے، جن کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘‘
پروفیسر منیندرا اگروال کے مطابق بی ٹیک سائبر سیکورٹی میں داخلہ کا عمل ’ہیکاتھون‘ کے ذریعے صلاحیت کو ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ جس میں یہ طالب علم خود کو ثابت نہیں کر سکا تھا۔ اس کے بعد اس نے ویب سائٹ ہیک کر کے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کی کوشش کی۔ پہلے ایف آئی آر درج کرانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ لیکن ادارے نے پہلے طالب علم کے دعوے اور مہارت کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سے قبل بی سی بی ایس ای پورٹل پر خامیاں اجاگر کرنے والے ریسرچر کو آئی آئی ٹی کانپور کے ’سی 3 آئی ہب‘ میں کام کرنے کا موقع دیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔