قومی خبریں

بھرت تیواری انکاؤنٹر: گولی چلانے والا ایس ٹی ایف اہلکار گرفتار، کارروائی سے معاملے نے نیا رخ اختیار کیا

بہار کے بھرت تیواری انکاؤنٹر کیس میں گولی چلانے کے الزام میں ایس ٹی ایف اہلکار اکشے کمار کو گرفتار کر لیا گیا۔ اہل خانہ اسے فرضی انکاؤنٹر قرار دیتے ہوئے مسلسل کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

 

پٹنہ: بہار کے زیر بحث بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے بھرت تیواری پر گولی چلانے کے الزام میں اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے اہلکار اکشے کمار کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی متوفی کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں کے مسلسل احتجاج اور انصاف کے مطالبے کے بعد عمل میں آئی۔

اطلاعات کے مطابق، بھرت تیواری کی 17 جون کو بہار کے ضلع بھوجپور میں پولیس انکاؤنٹر کے دوران موت ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد سے ہی اہل خانہ نے پولیس کے سرکاری مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایک فرضی انکاؤنٹر تھا اور بھرت تیواری کو جان بوجھ کر گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

اہل خانہ کا کہنا تھا کہ بھرت تیواری پولیس کے سامنے خودسپردگی (سرینڈر) کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود ان پر فائرنگ کی گئی۔ واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے خاندان نے الزام لگایا کہ اس میں بھرت تیواری کو ہتھیار ڈالنے کی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے، اس لیے پولیس کی کارروائی پر غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

دوسری جانب، پولیس نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ بھرت تیواری مسلح تھے اور پولیس ٹیم پر حملہ کر رہے تھے، جس کے جواب میں کی گئی فائرنگ کے دوران وہ ہلاک ہوئے۔ تاہم اس دعوے پر سوالات اٹھنے کے بعد معاملہ مزید حساس ہو گیا اور ریاست بھر میں اس پر بحث شروع ہو گئی۔

آرا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) راج نے تصدیق کی کہ بھرت تیواری انکاؤنٹر کیس میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گرفتار اہلکار کی شناخت ایس ٹی ایف جوان اکشے کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انکاؤنٹر کی کارروائی آرا پولیس اور ایس ٹی ایف نے مشترکہ طور پر انجام دی تھی، جبکہ اب قانونی کارروائی جاری ہے اور معاملے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، بڑھتے عوامی غصے اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اعلیٰ حکام نے تحقیقات تیز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ابتدائی شواہد اور بیانات کی بنیاد پر اکشے کمار کو پہلے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد انہیں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار اہلکار سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ انکاؤنٹر کے وقت پیش آنے والے حالات، پولیس کے خود دفاع کے دعوے اور فائرنگ کی وجوہات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔ حکام کے مطابق، تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھائی جا رہی ہیں اور تمام پہلوؤں کی جانچ ہوگی۔

بھرت تیواری کے اہل خانہ نے اس گرفتاری کو انصاف کی جانب پہلا قدم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ ادھر، معاملے کی حساسیت کے پیش نظر علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔