
سپریم کورٹ نے بہار اسمبلی انتخاب سے قبل ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق عمل کو قانونی اور آئینی قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے بدھ کے روز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر کے لیے خصوصی طریقۂ کار اختیار کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر ایس آئی آر کے عمل کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ووٹر لسٹ میں ترمیم کے عمومی طریقۂ کار سے مختلف ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ یہ عمل خود مختار اور منصفانہ انتخابات کے مقصد سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ قانون الیکشن کمیشن کو کسی بھی وقت خصوصی نظر ثانی کرانے کا اختیار دیتا ہے، اس لیے ایس آئی آر کو غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی آر عمل عوامی نمائندگی قانون اور اس سے متعلق قواعد کی جگہ نہیں لیتا۔
عدالت کے مطابق ’ایس آئی آر‘ آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن کی ذمہ داری کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔ ساتھ ہی اس نے مانا کہ ایس آئی آر عمل کے دوران لوگوں کو اپنی بات رکھنے کے متعدد مواقع دیے گئے۔ عدالت نے کہا کہ نوٹس جاری کرنے اور سماعت جیسے ضروری حفاظتی اقدامات اس عمل میں شامل تھے۔ عدالت کے مطابق ایس آئی آر کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست، مکمل اور قابل اعتماد بنانا ہے۔ اس عمل میں اپنائے گئے اقدامات ضرورت سے زیادہ سخت نہیں ہیں۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ لوگوں کو منمانے طریقے سے ووٹر لسٹ سے خارج ہونے سے بچانے کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کیے گئے۔
اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن صرف ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا ہٹانے تک محدود فیصلہ کر سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن شہریت کے معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی کا نام شہریت کی بنیاد پر ہٹایا جاتا ہے تو اس معاملے کا آخری فیصلہ مجاز اتھارٹی کرے گی۔ عدالت نے مانا کہ الیکشن کمیشن کی مکمل کارروائی قانون کے مطابق ہے۔ دستاویزات کی درجہ بندی معقول بنیادوں پر کی گئی ہے اور اس کا براہ راست تعلق ووٹر لسٹ کی درستگی برقرار رکھنے سے ہے۔
ایس آئی آر معاملہ پر سپریم کورٹ نے کئی باتیں سامنے رکھیں، جن میں 5 اہمیت کی حامل ہیں۔ وہ 5 باتیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں...
1. الیکشن کمیشن کے اختیارات برقرار
سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اسے غیر جانبدار اور درست ووٹر لسٹ تیار کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی مانا کہ خصوصی حالات میں مختلف طریقۂ کار اختیار کرنا آئین اور قانون کے خلاف نہیں ہے۔ لہٰذا ایس آئی آر مکمل طور پر قانونی ہے اور اسے نافذ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔
2. مختلف طریقۂ کار ہونے سے ایس آئی آر غیر قانونی نہیں ہو جاتا
بہار میں ایس آئی آر شروع ہونے کے بعد اسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ یہ عام نظر ثانی کے طریقۂ کار سے مختلف ہے اور ووٹروں کے حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس معاملہ میں عدالت نے کہا کہ ’’یہ عمل قانونی طور پر درست ہے۔ 11 دستاویزات پر غور کرنے اور ہمارے حکم کے ذریعے آدھار کارڈ کو شامل کیے جانے کے بعد ہم اس دلیل کو قبول نہیں کر سکتے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مانگی گئی دستاویزات منمانے انداز میں طے کی گئی ہیں۔‘‘
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined