
تصویر اے آئی
ایران اور اسرائیل کے درمیان چھڑی شدید جنگ نے اب عالمی شکل اختیار کر لی ہے۔ امریکہ بھی پوری طاقت کے ساتھ اس جنگ میں کود پڑا ہے اور خلیجی خطے کے 10 سے زائد ممالک کسی نہ کسی صورت میں اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ حالات ایسے بنتے جا رہے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسی عالمی جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہو۔ اس کا اثر بہار کے ضلع بھاگلپور پر بھی پڑ رہا ہے، جہاں کی ریشم کی صنعت اس جنگ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
Published: undefined
’سِلک سٹی‘ کے نام سے مشہور ضلع بھاگلپور ریشم کی صنعت کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے کرگھوں کی آواز جو کبھی 18 گھنٹے تک گونجتی تھی، اب محض 5 سے 6 گھنٹے تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ بنکروں اور تاجروں کے تقریباً 20 سے 25 کروڑ روپے کے آرڈر منسوخ ہو چکے ہیں۔ بھاگلپور میں تیار ہونے والے کپڑے دہلی اور کولکاتہ جیسے بڑے شہروں کے ذریعے کئی ممالک میں برآمد کیے جاتے ہیں۔ مختلف ممالک سے کروڑوں کے آرڈر ملتے تھے، لیکن جنگ کے خدشات اور عدم استحکام نے تجارت کی رفتار پر بریک لگا دی ہے۔
Published: undefined
بھاگلپور کا چمپا نگر علاقہ ریشم کی تجارت کا اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں تقریباً ہر گھر میں کرگھا لگا ہے اور دن بھر ان کے چلنے کی آواز گونجتی رہتی ہے۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ 50 فیصد سے زیادہ کام بند پڑا ہے۔ بنکر ہیمنت کمار بتاتے ہیں کہ وہ کورونا دور کے بعد سے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے تھے، اوپر سے جنگ نے کمر توڑ دی ہے۔ تقریباً 50 سے 60 لاکھ روپے تک کے آرڈر منسوخ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اگر پوری ریشم کی صنعت کی بات کریں تو تقریباً 20 سے 25 کروڑ روپے کے آرڈر منسوخ ہو گئے ہیں۔
Published: undefined
بُنکر آلوک کمار کا کہنا ہے کہ ہر بڑی جنگ کا اثر سب سے پہلے بھاگلپور کی کپڑا صنعت پر پڑتا ہے، لیکن حکومت کی توجہ اس جانب نہیں ہے۔ مسلسل نقصانات کے باعث بنکروں کی حالت خستہ ہوتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں عدم استحکام، ادائیگیوں میں تاخیر اور شپمنٹ رکنے سے تاجروں میں خوف کا ماحول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنکروں کے سامنے اب روزگار کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ایران-اسرائیل جنگ کے شعلے بھلے ہی ہزاروں کلومیٹر دور بھڑک رہے ہوں، لیکن اس کی تپش بھاگلپور کے کرگھوں کو جھلسا رہی ہے۔ اگر حالات جلد معمول پر نہ آئے تو ’سلک سٹی‘ کی پہچان اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار پر سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined