
بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی گزشتہ 9 اگست سے ایمس میں داخل تھے، لیکن آج (24 اگست) دوپہر 12 بج کر 7 منٹ پر وہ زندگی اور موت کی جنگ ہار گئے۔ ارون جیٹلی کی زندگی کا سفر 66 سال کا رہا اور جیسے ہی ان کی موت کی خبر میڈیا میں آئی، تعزیتی پیغامات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ قابل ذکر ہے کہ کڈنی ٹرانسپلانٹ کر چکے ارون جیٹلی کینسر میں مبتلا ہو گئے تھے اور ان کا علاج کافی دنوں سے چل رہا تھا۔ گزشتہ دنوں ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تھی جس کے بعد دہلی واقع ایمس میں انھیں داخل کرایا گیا تھا۔
سابق وزیر مالیات ارون جیٹلی کی صحت پچھلے کچھ مہینوں میں کافی خراب ہو گئی تھی اور طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے ہی انھوں نے لوک سبھا انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ موجودہ مرکزی کابینہ میں نہ شامل ہونے کا فیصلہ بھی ارون جیٹلی نے اپنی خرابیٔ طبیعت کی وجہ سے ہی کیا تھا۔ 14 مئی کو ایمس میں جب جیٹلی کا کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوا تھا، اس وقت سے ان کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب رہنے لگی تھی۔
ہندوستانی سیاست کی اونچائیوں کو چھونے والے ارون جیٹلی کی پیدائش 28 دسمبر 1952 کو نئی دہلی میں ہی ہوئی تھی۔ جیٹلی کی فیملی میں وکلاء کی اچھی خاصی تعداد تھی اس لیے انھیں بھی وکالت میں کافی دلچسپی تھی۔ ان کے والد کا نام کشن جیٹلی اور والدہ کا نام رتن پربھا جیٹلی ہے۔ جیٹلی نے دہلی کے رام کالج آف کامرس سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ دہلی یونیورسٹی سے انھوں نے لاء میں گریجویشن کیا ہے۔ وہ دہلی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
جیٹلی کے سیاسی کیریر کی شروعات زمانۂ طالب علمی سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ دہلی یونیورسٹی میں اے بی وی پی کے طلبا لیڈر کی شکل میں جیٹلی نے طلبا یونین انتخاب میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا تھا اور پھر 1974 میں دہلی یونیورسٹی طلبا یونین کے صدر بھی بنے تھے۔ آئیے ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں ان کے سیاسی سفر پر...
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 24 Aug 2019, 2:10 PM IST