
سپریم کورٹ آف انڈیا
سنبھل تشدد معاملے میں سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر سخت کارروائی کی ہے۔ سپریم کورٹ نے سنبھل تشدد معاملے کے ملزم مُلّا افروز کی ’نیشنل سیکورٹی ایکٹ‘ (این ایس اے) کے تحت ’پریوینٹو ڈیٹینشن‘ منسوخ کر دی ہے۔ عدالت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا، جس میں مُلّا افروز کی حراست کو برقرار رکھا گیا تھا۔ اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ پورے معاملے میں سب سے اہم سوال پولیس حراست میں دیے گئے مبینہ اعترافی بیان کو لے کر تھا۔
مُلّا افروز کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلیل دی گئی تھی کہ اس کی گرفتاری پولیس حراست میں دیے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ درخواست گزار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ’پریوینٹو ڈیٹینشن‘ کے لیے صرف متعدد مجرمانہ مقدمات کا موجود ہونا کافی نہیں ہو سکتا۔ اتر پردیش حکومت کی جانب سے دلیل دی گئی کہ دستیاب مواد سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ مُلّا افروز مستقبل میں تشدد کو ہوا دے سکتا ہے یا امن و سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن سپریم کورٹ نے پولیس حراست میں دیے گئے مبینہ قبول نامے کو ’پریوینٹو ڈیٹینشن‘ کی درست بنیاد ماننے سے انکار کر دیا۔
سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ پولیس حراست میں دیے گئے مبینہ قبول نامے کی بنیاد پر این ایس اے حراست کا حکم نہیں دیا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ 24 نومبر 2024 کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے عدالتی سروے کے دوران ہوئے تشدد سے متعلق ہے۔ تشدد میں 4 افراد کی موت ہوئی تھی۔ مُلّا افروز کو اس تشدد کا مبینہ مرکزی ملزم بتایا گیا تھا۔ تشدد کے تقریباً 54 دنوں کے بعد اسے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی تھی۔ اس کے باوجود 13 اکتوبر 2025 کو اس کے خلاف نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت ’پریوینٹو ڈیٹینشن‘ کا حکم جاری کیا گیا۔
فیصلہ سنانے کے وقت جسٹس دتا نے اپنے لا کلرک کو خراج عقیدت پیش کیا، جن کا 27 ویں سالگرہ سے قبل ہی انتقال ہو گیا تھا۔ جسٹس دتا نے یہ فیصلہ ان کے نام وقف کیا۔ قابل ذکر ہے کہ 8 ستمبر کو فیصلہ محفوظ رکھتے وقت بنچ نے مبینہ حراستی اعترافی بیان کی مطابقت اور اہمیت پر سوال اٹھائے تھے، اور پوچھا تھا کہ کیا ایسا اعترافی بیان پریوینٹو ڈیٹینشن کا حکم جاری کرنے کے لیے ضروری شخصی اطمینان کی بنیاد بن سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔