قومی خبریں

ڈھاکہ میں خیر مقدم، دہلی میں کشیدگی...سوربھ سین

ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی اختلافات، امیگریشن تنازعہ اور ’پش بیک’ پالیسی نے کشیدگی بڑھا دی ہے، جبکہ سرحدی نو مین لینڈ میں پھنسے ہزاروں افراد انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

جب ہندوستان کے بنگلہ دیش میں ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے کولکاتا سے ڈھاکہ کی روایتی 45 منٹ کی فضائی پرواز کے بجائے سڑک کے راستے جانے کا فیصلہ کیا تو اس کی ہر طرف ستائش کی گئی۔ وہ پیٹراپول-بیناپول بین الاقوامی سرحد کو پیدل عبور کرتے ہوئے پدما پل کے راستے ڈھاکہ پہنچے۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجودہ نازک تعلقات کے تناظر میں جنوبی ایشیا کے تجزیہ کاروں سے ترویدی کے اس سفر کے سیاسی اشارے پوشیدہ نہ رہے۔

ڈھاکہ پہنچ کر ترویدی نے اپنے سفر کی یادیں بیان کرتے ہوئے کہا، ’’بنگلہ دیش میں داخل ہوتے ہی مجھے ہرگز ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں کسی غیر ملکی سرزمین پر ہوں۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش مضبوط جمہوریتیں ہیں۔ ہم جو کچھ بھی کریں گے، ہمیں مل کر کرنا ہوگا۔ ہم الگ تھلگ رہ کر طاقتور نہیں بن سکتے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر خاص زور دیا کہ اگر دونوں ممالک کی 160 کروڑ آبادی اپنے وسائل کو یکجا کر کے ایک طاقتور اقتصادی بلاک تشکیل دے لے تو اس سے ترقی کے بے شمار اقتصادی امکانات کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

پہلی نظر میں ترویدی کے بیانات میں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آتی تھی، کیونکہ سفارت کار اور سفیر عموماً باہمی مفاہمت اور خیر سگالی کو فروغ دینے کے لیے اس طرح کے استعاروں کا استعمال کرتے ہیں، خصوصاً ایسے لوگوں کے درمیان جو مشترکہ تہذیبی ورثہ رکھتے ہوں۔

تاہم سیاسی استعاروں کے استعمال میں مہارت رکھنے والے ترویدی کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ ان کا یہ بیان ایک بڑے سفارتی تنازعے کا سبب بن جائے گا۔ اس نے ان مختلف حلقوں کے اندر موجود خدشات کو بھی بے نقاب کر دیا جن کے لیے اس دوطرفہ تعلق کی سمت، نوعیت اور گہرائی اہمیت رکھتی ہے۔ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان اور اس کے جنرل سکریٹری میاں غلام پروار اس پر ردعمل ظاہر کرنے والے اولین رہنما تھے۔

Published: undefined

جماعتِ اسلامی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترویدی کے بیانات بنگلہ دیش کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں۔ جماعت نے مطالبہ کیا کہ ڈھاکہ کی موجودہ حکومت فوری طور پر یہ وضاحت طلب کرے کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے ’’ایک ہونے‘‘ سے ترویدی کی کیا مراد تھی۔ جماعت کے امیر کے امورِ خارجہ کے مشیر میر احمد بن قاسم نے ’’سنڈے نوجیون‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ابہام اس وقت پیدا ہوا جب بعض میڈیا اداروں نے گمراہ کن سرخیاں نشر کیں جو بعد میں وائرل ہو گئیں۔ بنگلہ دیش میں قائدِ حزبِ اختلاف نے کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

ایک طرف ترویدی ڈھاکہ میں اتحاد کی بات کر رہے تھے اور دوسری طرف شفیق الرحمان وضاحت طلب کر رہے تھے، اسی دوران اگلے ہی روز، 14 جون کو، نئی دہلی میں ایک مختلف منظر سامنے آیا۔ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے پالیسی، حکمت عملی اور اطلاعاتی مشیر ڈاکٹر جاہد الرحمٰن انڈین اوشین رم ایسوسی ایشن کی سینئر افسران کی کمیٹی کے 28ویں اجلاس میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کے لیے دہلی پہنچے تھے۔

Published: undefined

تاہم نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے ڈاکٹر جاہد الرحمٰن کو روک لیا۔ اگرچہ انہیں وزیر مملکت کا درجہ حاصل ہے، اس کے باوجود ان سے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ وہ سفارتی پاسپورٹ کے بجائے سارک ویزا کے ساتھ ایک عام بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے۔ سرکاری ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ ان کے یوٹیوب چینل ’’جاہدز ٹیک‘‘ پر ہندوستان سے متعلق امور اور پالیسیوں پر کی گئی سخت تنقیدی آرا کے باعث ان کا نام امیگریشن کی بلیک لسٹ میں شامل تھا۔

بنگلہ دیش ہائی کمیشن کی جانب سے ہندوستان کی وزارت خارجہ کو پیشگی سفارتی اطلاع دیے جانے کے باوجود، ابتدائی طور پر امیگریشن کلیئرنس روک دی گئی۔ اگرچہ بعد میں اعلیٰ حکام نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت دے دی، لیکن ساتھ ہی اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ اس صورت حال سے مایوس ہو کر ڈاکٹر جاہد الرحمٰن نے ہندوستان میں داخل ہونے سے انکار کر دیا، اپنا پاسپورٹ واپس لیا اور کولمبو کے راستے ڈھاکہ لوٹ گئے۔

Published: undefined

اس واقعے کے بعد بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے ڈھاکہ کی ’’گہری مایوسی‘‘ اور سخت ناراضی سے آگاہ کرنے کے لیے ہندوستان کے نائب ہائی کمشنر پون باڈھے کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج درج کرایا۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن نے بھی عوامی سطح پر ہوائی اڈے کے اس واقعے کو ’’غیر متوقع اور افسوسناک‘‘ قرار دیا۔

ترویدی کے 12 جون کے دورۂ ڈھاکہ نے جہاں ایک ہموار سرحدی آمد و رفت کا اشارہ دیا تھا، وہیں ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد کے نو مین لینڈ میں ہزاروں افراد، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ دن رات یا تو کھلے آسمان تلے یا درختوں کے نیچے گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں بیت الخلا جیسی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ یا رضاکاروں کی جانب سے معمولی مقدار میں خوراک اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

ہندوستانی انتظامیہ نے انہیں غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر قرار دیتے ہوئے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو انہیں واپس بنگلہ دیش کی جانب ’’دھکیلنے‘‘ کا حکم دیا ہے۔ دوسری طرف بارڈر گارڈز بنگلہ دیش (بی جی بی) نے انہیں قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس معیاری طریقۂ کار (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) کا حوالہ دیا ہے جس کے تحت بنگلہ دیشی حکام کی جانب سے شناخت کی تصدیق ضروری ہے۔

اس ’’پش بیک‘‘ پالیسی نے سفارتی کشیدگی کو جنم دیا ہے اور 8 جون کو نئی دہلی میں بی ایس ایف اور بی جی بی کے درمیان ہونے والی 57ویں ڈائریکٹر جنرل سطح کی میٹنگ میں یہ مسئلہ نمایاں طور پر زیر بحث رہا۔ موجودہ سفارتی روایت سے ہٹ کر مذاکرات کے اختتام پر کوئی مشترکہ پریس کانفرنس یا میڈیا بریفنگ نہیں کی گئی۔ اس کے بجائے دونوں فورسز نے الگ الگ سرکاری بیانات کے ذریعے نتائج سے آگاہ کرنے کو ترجیح دی۔ یہ غیر معمولی خاموشی دراصل حساس دوطرفہ اختلافات کو عوامی یا میڈیا بیانات کی شکل اختیار کرنے سے روکنے کی ایک محتاط سفارتی حکمت عملی تھی۔

Published: undefined

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان نے اس معاملے میں ایک منتشر طرز عمل اختیار کیا ہے۔ چونکہ اس پش بیک عمل میں کئی ایجنسیاں شامل ہیں، اس لیے ہر ادارہ صرف اپنی متعین ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ اس عمل سے وابستہ ایک سینئر پولیس افسر نے ’’سنڈے نوجیون‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم صرف ان لوگوں کو بی ایس ایف کے حوالے کر دیتے ہیں۔ بعد میں ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اس بارے میں صرف بی ایس ایف ہی بہتر طور پر بتا سکتی ہے۔‘‘ اس موضوع پر بی ایس ایف یا کولکاتا اور نئی دہلی میں موجود بنگلہ دیشی سفارتی مشنز سے رابطے کی متعدد کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

دعوؤں اور جوابی دعوؤں کے اس تصادم کے درمیان وہ خاندان پس رہے ہیں جو بے گھر اور عملاً بے وطن ہو چکے ہیں۔ اس علاقے میں سرگرم مقامی باشندوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں کے مطابق ایسے سیکڑوں مہاجر راتوں رات غائب ہو چکے ہیں۔ وہ رات کی تاریکی میں نہ جانے کس سمت روانہ ہو گئے، کیونکہ وہ انتظامی غیر یقینی، مشکلات اور اس کشمکش کو مزید برداشت کرنے سے قاصر تھے۔

Published: undefined

دستاویزی فلم ساز دویپاین بنرجی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ سرحد کی اس سنگین صورت حال کو نہایت دردناک انداز میں بیان کرتی ہے: ’’حاشیے پر زندگی گزارنے والے بنگلہ زبان بولنے والے مسلم گھریلو ملازمین، تعمیراتی مزدوروں اور کچرا چننے والوں کے لیے بغیر دستاویزات کے معاشی مہاجر اور ایک جائز مقامی شہری کے درمیان فرق کی لکیر دھندلی ہو چکی ہے۔ سرحد اب محض ایک قانونی حد بندی نہیں رہی، بلکہ ایک ایسے انتظامی نظام کے لیے غیر رسمی اور یک طرفہ اخراجی دروازہ بن گئی ہے جو شہریت کو ایک موسمی صفائی مہم کی طرح دیکھ رہا ہے۔‘‘

(مضمون نگار، سوربھ سین کولکاتا میں مقیم ایک آزاد مبصر ہیں)

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined