قومی خبریں

’گجرات میں ری-نیٹ پیپر بھی لیک ہوا تھا!‘ روہت پوار کا دعویٰ

روہت پوار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دعویٰ کیا کہ ’’نیٹ-یو جی کے دوبارہ امتحان کا سوالنامہ امتحان سے 3 روز قبل ہی گجرات میں لیک ہو گیا تھا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>روہت پوار / آئی اے این ایس</p></div>

روہت پوار / آئی اے این ایس

 
IANS

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ایس پی) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے مرکزی حکومت اور امتحان منعقد کرنے والے اداروں پر پیپر لیک سے متعلق نئے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دعویٰ کیا کہ نیٹ-یو جی کے دوبارہ امتحان کا سوالنامہ امتحان سے 3 روز قبل ہی گجرات میں لیک ہو گیا تھا۔ صورتحال کو تشویشناک بتاتے ہوئے پوار نے تحقیقاتی ایجنسیوں سے فوری وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کئی ریاستوں میں چل رہے مبینہ منظم پیپر لیک ریکٹ کے الزامات کی غیرجانبدارانہ اور گہرائی سے تحقیقات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ساتھ پوار نے کچھ دستاویزات بھی شیئر کیں، جن میں ایک ای میل تھریڈ بھی شامل ہے۔ انہوں نے تحقیقاتی اداروں اور مرکزی ایجنسیوں سے واقعے کی ٹائم لائن کی جانچ کرنے اور مبینہ پیپر لیک کے ذرائع کا پتہ لگانے کی اپیل کی۔ روہت پوار نے تحقیقاتی ایجنسیوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی دباؤ میں آئے بغیر پیپر لیک نیٹورک کے اصل ملزمان کو بے نقاب کریں۔ ان کے مطابق پیپر لیک کے بعد ہوئے نیٹ کے دوبارہ امتحان کو لے کر نئے الزامات سامنے آئے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دوبارہ امتحان کا سوالنامہ بھی امتحان سے 3 روز قبل گجرات میں لیک ہو گیا تھا۔ یہ امتحان کی شفافیت اور سیکورٹی کے نظام کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

روہت پوار نے مزید کہا کہ ’’اگر یہ سچ ہے تو یہ انتہائی تشویش کی بات ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کو فوری طور پر اس معاملے کی سچائی سامنے لانی چاہیے۔ اگر حقیقت میں پیپر لیک ہوا ہے تو بغیر کیس دباؤ کے پورے ریکٹ کا پردہ فاش کیا جانا چاہیے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘ واضح رہے کہ پیپر لیک سے متعلق یہ نئے الزامات سامنے آئے ہیں جب مرکز کی این ڈی اے حکومت کو مسابقتی امتحانات میں بار بار سامنے آ رہی بے ضابطگیوں کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں اور طلبہ تنظیموں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ملک بھر میں ہونے والے احتجاج اور ہنگامے کے بعد مرکزی حکومت نے پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف ان فیئر مینز) ایکٹ، 2024 نافذ کیا ہے۔ اس کا مقصد سخت سزا، پیپر لیک روکنے کے اقدامات اور بھاری جرمانے کے ذریعے امتحانات میں ہونے والی دھاندلی پر لگام لگانا ہے۔ قانونی اقدامات اٹھائے جانے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے این ڈی اے حکومت پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ وہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور قومی سطح کے بھرتی و داخلہ امتحانات میں مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ پوار کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب نیٹ-یو جی امتحان کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد تنازعہ شروع ہوا تھا۔ اس دوران بہار اور گجرات جیسی ریاستوں میں پیپر لیک ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ اس کے علاوہ، بڑی تعداد میں امیدواروں کے ٹاپ رینک حاصل کرنے پر بھی سوالات اٹھے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ کچھ مخصوص امیدواروں کو گریس مارکس دیے جانے کے خلاف عدالت میں درخواستیں دائر ہونے اور عوام کے احتجاج کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے متاثرہ امیدواروں کے لیے دوبارہ امتحان کا انعقاد کیا تھا۔ وزارت تعلیم نے نیٹ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے سپرد کر دیں۔ اس کے بعد بہار، گجرات اور مہاراشٹر میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ دوسری طرف، این سی پی (ایس پی) کے رکن اسمبلی روہت پوار اور کئی طلبہ تنظیمیں مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ پیپر لیک روکنے کے لیے ریاستی اور قومی سطح پر سخت قوانین نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔