قومی خبریں

ہریانہ کی کھٹر حکومت کی مدد سے رام دیو نے زمین گھپلہ کیا: کانگریس

کانگریس نے پتنجلی یوگ پیٹھ پر ہریانہ میں ریاست کی بی جے پی حکومت کی مدد سے سینکڑوں ایکڑ جنگلاتی زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے بڑا زمین گھپلہ قرار دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

نئی دہلی: کانگریس نے پتن جلی یوگ پیٹھ پر ہریانہ میں ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی مدد سے سینکڑوں ایکڑ جنگلاتی زمین قبضہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے بڑا زمین گھپلہ قرار دیا ہے اور پورے معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دینے مطالبہ کیا ہے۔

Published: 08 Jun 2019, 10:10 PM IST

کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ یوگ گرو بابا رام دیو اور آچاریہ بال کرشن کا ادارہ پتن جلی یوگ پیٹھ کی ملحقہ کمپنیوں نے ہریانہ میں فرید آباد کے کوٹ گاؤں میں اراولی پہاڑی سلسلے میں پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر 400 ایکڑ زمین خریدی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگلاتی زمین ہے اور اس کا استعمال کاشتکاری، کسانی، یا کسی بھی طرح کے تجارتی کام کے لئے نہیں کیا جا سکتا اور اسے فروخت بھی نہیں کیا جا سکتا۔

Published: 08 Jun 2019, 10:10 PM IST

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں 2011 میں فرمان جاری ہوا تھا جس میں پنچایتوں سے کہا گیا تھا کہ اگر کسی کے پاس جنگلاتی زمین کا کوئی حصہ ہے تو اسے وہ حکومت کو واپس کردے۔ اس ضمن میں ضلع عدالت میں معاملہ دائر کیا گیا اور یہ معاملہ ابھی چل رہا ہے۔ اس کے باوجود مقامی لوگوں سے پاور آف اٹارني کی بنیاد پر زمین خريدي گئی جس میں ایک شخص نے ہی 104 پاور آف اٹارني کی بنیاد پر زمین خرید لی۔

Published: 08 Jun 2019, 10:10 PM IST

ترجمان نے کہا کہ اس شخص کا تعلق رام دیو اور بال کرشن سے ہے اور وہ ان کی کمپنیوں میں ڈائریکٹر ہے۔ جس کمپنی کے لئے اس نے اس زمین كو خریدا ہے اس کا 99 فیصد ملکیت آچاریہ بال کرشن کے پاس ہے۔ اس شخص کی بہن اور بہنوئی کے نام پر بھی زمین خریدی گئی ہے۔

Published: 08 Jun 2019, 10:10 PM IST

کھیڑا نے الزام لگایا کہ بابا رام دیو اور آچاریہ بال کرشن نے یہ زمین گھپلہ ہریانہ حکومت کی مدد سے کیا ہے۔ ہریانہ حکومت نے اس گھپلے کو انجام دینے کے لئے اسی سال 27 فروری کو اسمبلی سے زمین ایکٹ میں تبدیلی کا بل منظور کرایا۔

Published: 08 Jun 2019, 10:10 PM IST

انہوں نے کہا کہ کمال کی بات یہ ہے کہ 27 فروری کو ریاستی اسمبلی سے یہ ترمیمی بل منظور کرایا گیا اور اس سے پہلے یکم فروری کو اس علاقے میں زمین چكبندي لاگو کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ چكبندي جنگلاتی زمین کی نہیں ہوتی ہے بلکہ اسی زمین کی چكبندي ہو سکتی ہے جو زرعی زمین یا استعمال میں لائی جانے والی زمین ہوتی ہے۔

Published: 08 Jun 2019, 10:10 PM IST

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 08 Jun 2019, 10:10 PM IST