
تصویر سوشل میڈیا
چنئی میں اتوار کے روز جب عوام نئی حکومت کی حلف برداری تقریب کے اسٹیج پر فلم اداکار وجے اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کو ایک ساتھ دیکھ کر جھوم رہے تھے، تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس عوامی جوش و خروش پر قینچی چلانے کی تیاریوں میں سرگرم تھا۔ خبروں کے مطابق ٹی وی کے سربراہ کی تقریب حلف برداری کے لیے تمل ناڈو پہنچے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ وجے تھلا پتی نے اسٹیج پر ہی ایک ریل بنائی تھی۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ انسٹاگرام نے وزارت آئی بی کے ضوابط کی وجہ سے وجے اور راہل گاندھی کی اس ریل اور فوٹو پوسٹ کو ’بلاک‘ کر دیا ہے۔ حالانکہ سرکاری ذرائع نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
Published: undefined
الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ذرائع نے واضح کیا کہ ان کا اس کارروائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور یہ اس لیے ہوا کیونکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے داخلی نظام نے غلطی سے پوسٹ کو بلاک کرنے کے لیے نشان زد کر دیا تھا۔ راہل گاندھی اتوار کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے طور پر وجے کی حلف برداری کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے چنئی پہنچے تھے اور بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر اداکار و سیاست دان کے ساتھ کئی تصاویر شیئر کیں۔
Published: undefined
’اے بی پی لائیو‘ نے ’پی ٹی آئی‘ کے حوالے نشر کی گئی نیوز میں بتایا کہ کانگریس لیڈر اور راہل گاندھی کے قریبی سری وتس نے’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ انسٹاگرام نے ’’آج کی حلف برداری تقریب میں راہل گاندھی اور تھلا پتی وجے کی تصاویر والی ریل اور پوسٹ کو بلاک کر دیا ہے۔‘‘ سری وتس نے بتایا کہ وائرل ریل کو ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں 12 کروڑ ویوز مل چکے تھے، جبکہ وائرل فوٹو پوسٹ 4.6 کروڑ لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میٹا نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ ان کا اکاؤنٹ کیوں غیر فعال ہوگیا ہے۔ یہ گڑبڑی ایم ای آئی ٹی وائی کے قوانین کی وجہ سے ہے! راہل گاندھی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو طویل عرصے سے کنٹرول کیا گیا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کی’ایکس‘ رسائی، یوٹیوب ویوز اور انسٹاگرام فالورز سبھی کو محدود کردیا گیا ہے۔ سری وتس نے کہا کہ اس طرح ہندوستان کے اپوزیشن لیڈر کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ ان دعووں پر صفائی دیتے ہوئے ایم ای آئی ٹی وائی کے ذرائع نے کہا کہ کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے یہ غلط دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی کچھ پوسٹس کو وزارت کی جانب سے بلاک کر دیا گیا تھا۔ وزارت کے ایک ذریعہ نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم کے داخلی نظام کی غلطی سے پوسٹ کو بلاک کرنے کے لیے نشان زد کرنے کی وجہ سے ہوا تھا، جسے اب بحال کردیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined