مرکزی وزیر نتن گڈکری کے سامنے چھوٹے صنعت کاروں کی پریشانی بیان کرتے ہوئے راہل گاندھی، ویڈیو گریب
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور وائناڈ سے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے راجستھان کے کچھ چھوٹے صنعت کاروں کے ایک وفد سے ملاقات کی، جو کئی مہینوں سے ذہنی پریشانی میں مبتلا تھے۔ یہ ملاقات ’جَن سنسد‘ میں ہوئی، جب چھوٹے ٹرک اور بس باڈی بنانے والے صنعت کاروں کے وفد نے اپنی پریشانیوں کو راہل اور پرینکا کے سامنے رکھ کر تکلیف کا حل نکالنے کی گزارش کی۔
Published: undefined
راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے وفد میں شامل لوگوں کی باتیں بہت غور سے سنیں اور پھر مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری سے ملاقات کے لیے ان کے چیمبر میں پہنچے، تاکہ چھوٹے صنعت کاروں کی پریشانی سے انھیں واقف کرایا جا سکے۔ انھوں نے نتن گڈکری سے ملاقات کر انھیں صنعتکاروں کو درپیش مشکلات سے آگاہ بھی کیا۔ نتن گڈکری نے وفد کی باتوں کو غور سے سنا اور مثبت رویہ ظاہر کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ کانگریس کی جانب سے اس ملاقات کی ایک ویڈیو بھی ’ایکس‘ پر شیئر کی گئی ہے، جس میں وفد کے اراکین اپنے مسائل بیان کرتے نظر آ رہے ہیں۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفد نے کانگریس لیڈران کو بتایا کہ وہ کئی برسوں سے ’ٹاٹا گروپ‘ جیسی بڑی کمپنیوں کے لیے گاڑیوں کی باڈی تیار کرتے آ رہے ہیں، لیکن اب کانٹریکٹ بیرون ممالک میں موجود بڑی کمپنیوں کو دیے جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے نئے قواعد اور بھاری فیس/ٹیکس کی وجہ سے ان کے کاروبار پر شدید منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو لاکھوں چھوٹے کاریگروں اور صنعتکاروں کا روزگار ختم ہو سکتا ہے اور ان کے خاندانوں کے سامنے معاشی بحران کھڑا ہو جائے گا۔
Published: undefined
کانگریس نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی پالیسی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے اور چھوٹے صنعتوں کو نقصان دینے پر مبنی ہے۔ پارٹی کے مطابق حکومت ایک طرف بڑے کارپوریٹس کو کانٹریکٹ دیتی ہے اور دوسری طرف انہیں مالی مدد فراہم کرتی ہے، جبکہ چھوٹے کاروباری ادارے اس مقابلے میں خود کو کمزور محسوس کرتے ہیں۔ کانگریس نے مزید کہا کہ حکومت مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کو نہ مناسب مالی مدد فراہم کرتی ہے اور نہ ہی تکنیکی تعاون دیتی ہے، حالانکہ یہی شعبہ ملک میں سب سے زیادہ روزگار پیدا کرتا ہے۔
Published: undefined
چھوٹے صنعت کاروں کے وفد سے ملاقات کی ویڈیو راہل گاندھی نے اپنے ’فیس بک‘ اکاؤنٹ سے بھی شیئر کی ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’راجستھان کے چھوٹے ٹرک اور بس باڈی سازوں کے نمائندہ وفد کے مسائل جَن سنسد میں سن کر ان کے ساتھ مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری جی سے ملاقات کی۔ طویل مدت سے یہ مینوفیکچررس ٹاٹا جیسی کمپنیوں کے لیے باڈی بناتے رہے ہیں، لیکن اب کانٹریکٹ باہر کی بڑی کمپنیوں کو دینے کی بات ہو رہی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’صرف راجستھان میں ایک ہزار سے زائد یونٹس ہیں، جو 50-40 ہزار لوگوں کو روزگار دیتی ہیں۔ ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد یونٹس ہیں، جو بند ہوئیں تو لاکھوں ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی مرکزی وزیر نتن گڈکری سے ملاقات کو مثبت قرار دیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’گڈکری جی نے یہ مسائل سن کر مثبت رخ اختیار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ اصول آسان کیے جائیں گے، بینکوں سے مالی امداد دلائی جائے گی، شیڈ اور بجلی کنکشن یقینی ہوں گے اور تاخیر و بدعنوانی کو کم کیا جائے گا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نتن گڈکری کا دو فریقی نظریہ سے مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش قابل تعریف ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined