
ویڈیو گریب
اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون میں کانگریس کے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو امتحانی نظام، پیپر لیک اور نوجوانوں کے روزگار کے محدود مواقع کے معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے کروڑوں نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی پانچ سال سرکاری ملازمتوں کے امتحانات کی تیاری میں صرف کرتے ہیں، لیکن ان کے سامنے کامیابی کے امکانات انتہائی محدود ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ایک طالب علم کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کے دوران تقریباً 9 لاکھ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں، جس کے لیے اکثر خاندان اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں یا قرض لیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کروڑوں نوجوانوں کو اسی راستے پر چلنے کے لیے کیوں مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے دیگر راستے بند کر دیے گئے ہیں اور سرکاری ملازمت ہی واحد قابل اعتماد راستہ بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں صنعت کاری، کاروباری سرگرمیوں، نجی شعبے کی ملازمتوں اور عوامی شعبے میں مواقع محدود ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے نوجوان سرکاری ملازمتوں کے امتحانات پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں تقریباً 9 کروڑ امیدوار مختلف امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے صرف 6 لاکھ امیدوار ہی کامیاب ہو پاتے ہیں، یعنی ہر 150 نوجوانوں میں سے صرف ایک کو کامیابی ملتی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کے نوجوانوں کے سامنے دو راستے ہیں، ایک ایمانداری کا اور دوسرا بدعنوانی اور پیپر لیک کا۔ انہوں نے کہا کہ 99 فیصد طلبہ ایمانداری کے راستے پر چلتے ہیں، لیکن ایک فیصد لوگ نظام کا غلط استعمال کرکے بدعنوانی کو فروغ دیتے ہیں، جس کا خمیازہ لاکھوں محنتی طلبہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا بڑھتا ہوا خرچ، روزگار کے محدود مواقع، کامیابی کے انتہائی کم امکانات اور پیپر لیک جیسے مسائل نوجوان نسل کے مستقبل کو متاثر کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل، ان کی تعلیم اور ان کی جدوجہد سے متعلق ایک اہم مکالمہ ہے۔
اس موقع پر راہل گاندھی نے نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملے میں اپنی جان دینے والی طالبہ ریا کماری کے والد راجیش مل کو اسٹیج پر مدعو کیا۔ ریا کے والد نے جذباتی انداز میں اپنی بیٹی کے آخری دنوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ امتحان دے کر واپس آنے کے بعد ریا بے حد خوش تھی، لیکن جب پیپر لیک کی خبریں سامنے آئیں تو وہ شدید مایوسی کا شکار ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ محنت کرنے والے طلبہ کے ساتھ بار بار ناانصافی ہوتی ہے اور ان کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔
ریا کے والد نے راہل گاندھی سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ میں پیپر لیک سے متاثرہ طلبہ کی آواز بلند کریں تاکہ مستقبل میں کسی اور طالبہ کو اس طرح کے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کانگریس نے بھی اس معاملے کو امتحانی نظام میں موجود سنگین خامیوں کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک نے پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔