
تصویر، کانگریس میڈیا سیل
الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر اپوزیشن مسلسل حملہ آور ہے۔ اسی سلسلے میں آج انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر تک مارچ نکال رہے ہیں۔ تمام لیڈران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس درمیان پولیس نے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو آگے بڑھنے سے روک دیا، جس کے بعد راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت کئی اپوزیشن لیڈران دھرنے پر بیٹھ گئے۔ پولیس اور لیڈران کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ اس دوران راہل گاندھی بیریکڈنگ پر چڑھ کر ترنگا لہرایا۔
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر لکھا کہ ’گیانیش اٹس ڈن برو۔ ٹائم ٹو ریزائن‘ یعنی گیانیش، بس بہت ہو گیا بھائی۔ اب استعفیٰ دینے کا وقت ہے۔ ایک دیگر پوسٹ میں انہوں نے مارچ کی کئی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’گیانیش کمار نے بی جے پی کے ساتھ مل کر ووٹ چوری سے جمہوریت کے قتل کی سازش کی ہے۔ یہ ملک سے غداری ہے، استعفیٰ تو دینا ہی ہوگا۔‘‘
اس سے قبل کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ ’’ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ کھڑگے کے مطابق آزادی کے بعد عوام کو ووٹ کا حق ملا تھا، جسے مودی حکومت ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار حکومت کی کٹھ پتلی ہے۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ گیانیش کمار وہی کرتے ہیں جو مودی اور شاہ کہتے ہیں۔ اس سے جمہوریت اور آئین ختم ہو جائے گا اور تاناشاہی قائم ہوگی۔ انھوں نے موجودہ حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انڈیا اتحاد کے لوگ اس ناانصافی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہم لڑتے رہیں گے اور جیتیں گے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔