قومی خبریں

دہلی میں ’رن فار امبیڈکر‘ میراتھن کو راہل گاندھی نے دکھائی ہری جھنڈی، بی جے پی اور آر ایس ایس کو بنایا ہدف تنقید

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’کانگریس کا مقصد آئین کا تحفظ کرنا اور اس کے پیغام کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانا ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ ہر شہری آئین کی اہمیت کو سمجھے اور اسے بچانے کے لیے آگے آئے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا بشکریہ&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا بشکریہ @INCIndia

 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اتوار (12 اپریل) کو دہلی میں ’رن فار امبیڈکر، رن فار کانسٹی ٹیوشن‘ میراتھن کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ یہ میراتھن آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے شعبہ برائے درج فہرست ذات نے شعبہ برائے دیگر پسماندہ طبقات کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ اس کا مقصد نوجوانوں میں بابا صاحب کے آئین اور ان کے نظریات کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔

Published: undefined

اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ آئین ہی بابا صاحب کا سب سے بڑا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئین نہ ہوتا تو آج ہندوستان اس شکل میں نظر نہیں آتا۔ اس میراتھن کے ذریعے کانگریس نوجوانوں تک آئین کے بنیادی خیالات اور مساوات کا پیغام پہنچانا چاہتی ہے۔ راہل گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہدف تنقید بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ تنظیمیں آئین کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’آج آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ آئین کو ختم کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں سب کو برابری کا درجہ ملے۔‘‘

Published: undefined

راہل گاندھی کے مطابق اگرچہ بی جے پی کے لیڈران بابا صاحب کے مجسمے کے سامنے ہاتھ جوڑتے نظر آتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں آئین کو ختم کرنے کی سوچ ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد نے کہا کہ ’’کانگریس کا مقصد آئین کا تحفظ کرنا اور اس کے پیغام کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانا ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ ہر شہری آئین کی اہمیت کو سمجھے اور اسے بچانے کے لیے آگے آئے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ اس میراتھن کو کانگریس کے شعبہ برائے درج فہرست ذات اور شعبہ برائے دیگر پسماندہ طبقات نے مل کر منعقد کیا، جس میں نوجوانوں کی شرکت کے ذریعے سماجی بیداری کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined