قومی خبریں

دہلی کے بیلا اسٹیٹ میں 728 میں سے 727 ووٹروں کے نام حذف، راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر اٹھائے سوال

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ دہلی کے بیلا اسٹیٹ میں ایس آئی آر کے بعد 728 میں سے 727 افراد کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ انہوں نے اسے ووٹ کے حق سے محرومی قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی این سی</p></div>

تصویر آئی این سی

 

رپورٹس کے مطابق، جن اہل ووٹروں کے نام ڈرافٹ فہرست میں شامل نہیں ہیں، وہ مقررہ مدت کے دوران دعوے اور اعتراضات کے عمل کے ذریعے فارم 6 جمع کرا کے اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کی درخواست کر سکتے ہیں۔

بیلا اسٹیٹ کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہلی میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام خارج ہونے کو لے کر اپوزیشن اور انتخابی کمیشن کے درمیان تنازع جاری ہے۔ راہل گاندھی اس سے قبل بھی چیف الیکشن کمشنر اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سوال اٹھا چکے ہیں۔

انتخابی کمیشن نے، تاہم، ایس آئی آر کے شیڈول سے متعلق فیصلوں پر اختلاف کی خبروں کے جواب میں کہا ہے کہ اس عمل سے متعلق تمام فیصلے کمیشن کی متفقہ منظوری سے لیے گئے ہیں۔نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دہلی کے یمنا کنارے واقع بیلا اسٹیٹ میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بیلا اسٹیٹ میں رہنے والے 728 افراد میں سے ایس آئی آر کے بعد صرف ایک شخص کا نام ووٹر لسٹ میں باقی رہ گیا، جبکہ 727 نام ہٹا دیے گئے۔ یہ دعویٰ انہوں نے پیر کو ایکس پر پوسٹ اور ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ بیلا اسٹیٹ میں رہنے والے یہ لوگ کئی دہائیوں سے وہاں مقیم ہیں اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ان کے مطابق 2023 میں ان کے گھر توڑ دیے گئے تھے، تاہم وہ علاقہ چھوڑ کر کہیں اور نہیں گئے اور اب بھی وہیں رہ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پیر کو بیلا اسٹیٹ کی جھگی بستی میں گئے اور وہاں رہنے والے لوگوں سے براہ راست بات کرکے ان کی شکایات سنیں۔ راہل گاندھی نے ایکس پر جاری ویڈیو میں متعلقہ ایس ڈی ایم سے فون پر بھی بات کی اور ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے معاملے پر وضاحت طلب کی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ کسی شخص کے پاس پکا مکان موجود ہے یا نہیں، اس کا اس کے ووٹ دینے کے حق سے تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے گھر افراد کے لیے ووٹر لسٹ میں ’ہاؤس نمبر 0‘ کا انتظام موجود ہے۔ ان کا سوال تھا کہ اس کے باوجود بیلا اسٹیٹ کے 727 لوگوں کے نام کیسے ہٹا دیے گئے۔

کانگریس رہنما نے الزام عائد کیا کہ یہ ایس آئی آر نہیں بلکہ ’ووٹ چوری کا طریقہ‘ ہے اور کہا کہ جن لوگوں کے پاس پہلے ہی وسائل کم ہیں، ان سے ووٹ کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عہدے سے چلے جائیں گے، لیکن جس نظام کے ذریعے یہ سب ہوا، اس کا بھی حساب ہونا چاہیے۔

تاہم، بیلا اسٹیٹ سے متعلق دستیاب سابقہ رپورٹوں میں اعداد و شمار میں معمولی فرق سامنے آیا ہے۔ 31 اگست کو جاری دہلی کی ایس آئی آر ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا تھا کہ متعلقہ پولنگ پارٹ میں پہلے 729 ووٹر درج تھے، جن میں سے صرف ایک کا نام ڈرافٹ فہرست میں موجود تھا اور 728 نام شامل نہیں تھے۔ انتخابی حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ پرانے پتے پر موجود مکانات کے منہدم ہونے اور رہائش کی صورتحال تبدیل ہونے کی وجہ سے نام ڈرافٹ رول میں شامل نہیں کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق، جن اہل ووٹروں کے نام ڈرافٹ فہرست میں شامل نہیں ہیں، وہ مقررہ مدت کے دوران دعوے اور اعتراضات کے عمل کے ذریعے فارم 6 جمع کرا کے اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کی درخواست کر سکتے ہیں۔

بیلا اسٹیٹ کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہلی میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام خارج ہونے کو لے کر اپوزیشن اور انتخابی کمیشن کے درمیان تنازع جاری ہے۔ راہل گاندھی اس سے قبل بھی چیف الیکشن کمشنر اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سوال اٹھا چکے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے، تاہم، ایس آئی آر کے شیڈول سے متعلق فیصلوں پر اختلاف کی خبروں کے جواب میں کہا ہے کہ اس عمل سے متعلق تمام فیصلے کمیشن کی متفقہ منظوری سے لیے گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔