
راہل گاندھی (ویڈیو گریب)
حنئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ کو گاندھی جینتی کے موقع پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ گاندھی جینتی کے دن ہزاروں نوجوان ’ووٹ چوری‘ کے خلاف سڑکوں پر ہیں اور پرامن طریقے سے اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ مظاہرین کا مطالبہ واضح ہے کہ گیانیش کمار استعفیٰ دیں اور ’جمہوریت بچاؤ۔‘
حکومت کی جانب سے احتجاج کے خلاف کارروائی پر راہل گاندھی نے کہا کہ لڑکے اور لڑکیوں کو سڑکوں سے گھسیٹ کر لے جایا جا رہا ہے اور سیکڑوں افراد حراست میں ہیں، مظاہرین کا ’جرم‘ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ووٹ چوری پر سوال اٹھایا۔
کانگریس رہنما نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ باپو نے سچ بولنے اور پرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کا درس دیا تھا۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاٹھی سے بھیڑ کو روکا جا سکتا ہے، لیکن سوال کو نہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ گیانیش کمار جائیں گے اور وہ نظام بھی جائے گا جس نے انہیں اس عہدے پر بٹھایا ہے۔
راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب دہلی کے جنتر منتر اور ممبئی کے شیواجی پارک سمیت مختلف مقامات پر الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کرنے والے گروپوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دہلی میں جنتر منتر کے قریب احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ کی تھیں اور بعض اپوزیشن رہنماؤں سمیت مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ احتجاج کی ایک اہم وجہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی حالیہ رپورٹ بھی ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایس آئی آر اور دیگر انتخابی امور سے متعلق فیصلوں اور طریقہ کار پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کرائے تھے۔ ان اعتراضات میں نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹروں کے نام حذف کرنے اور انتخابی ڈیٹا تک رسائی جیسے معاملات شامل تھے۔
الیکشن کمیشن نے ان اعتراضات کے وجود سے انکار نہیں کیا، تاہم کہا کہ یہ عمل فیصلہ سازی کے دوران سامنے آنے والی تجاویز اور انتظامی سوالات کا حصہ تھے اور ایس آئی آر سمیت کمیشن کے فیصلے متفقہ طور پر لیے گئے۔ اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے آنے والے دنوں میں مزید احتجاج اور ریلیوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔