قومی خبریں

راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے ’ویژن آئی اے ایس‘ کوچنگ کے طلبہ سے ملاقات کی

کانگریس نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ ’’طلبہ نے انسٹی ٹیوٹ میں تدریس، رہنمائی اور مطالعاتی مواد کے معیار میں نمایاں گراوٹ پر سنگین تشویش ظاہر کی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>’ویژن آئی اے ایس‘ کوچنگ کے طلبہ کے ساتھ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی، تصویر<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

’ویژن آئی اے ایس‘ کوچنگ کے طلبہ کے ساتھ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی، تصویر@INCIndia

 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ (21 اکتوبر) کو دہلی واقع ’ویژن آئی اے ایس‘ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کی ایک تصویر کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی۔ تصویر میں طلبہ اور کانگریس کے دونوں رہنما کافی خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے ہیں۔ پارٹی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ویژن آئی اے ایس کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ سے ملاقات کی۔‘‘

کانگریس نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’طلبہ نے انسٹی ٹیوٹ میں تدریس، رہنمائی اور مطالعاتی مواد کے معیار میں نمایاں گراوٹ پر سنگین تشویش ظاہر کی۔‘‘ کانگریس کے مطابق طلبہ نے یہ بھی کہا کہ فیس کی واپسی کے مطالبے پر انتظامیہ کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس، خاص طور پر راہل گاندھی، ہمیشہ طلبہ کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی ملاقات کے دوران طلبہ نے راہل گاندھی کے سامنے اپنے ان تمام مسائل کو رکھا جن کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے ہفتہ (10 اکتوبر) کو چنئی کے آئی لینڈ گراؤنڈ میں طلبہ سے خطاب کیا تھا۔ ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت اب تک ملک کے 6 بڑے شہروں میں پروگرام کا شاندار انعقاد ہو چکا ہے۔ حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی چنئی (تمل ناڈو)، کوٹا (راجستھان)، دہرادون (اتراکھنڈ)، پریاگ راج (اتر پردیش)، پونے (مہاراشٹر) اور اندور (مدھیہ پردیش) میں طلبہ سے ہم کلام ہو چکے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو تعلیمی نظام میں پیش آنے والی مشکلات اور روزگار حاصل کرنے میں درپیش چیلنجز پر گفتگو کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

راہل گاندھی نے چنئی میں طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے ایک خاص مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے من میں چھپے سوالات ضرور پوچھیں، خاموش نہ رہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ سوال پوچھنا تجسس اور ترقی کی بنیاد ہے۔ پیریار کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ پیریار نے ہر چیز پر سوال اٹھائے تھے۔ جمہوریت میں سوال پوچھنا لوگوں کا حق ہے اور آئین اس حق کی حفاظت کرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ سے جڑے رہنے کے ساتھ ساتھ سوال پوچھتے رہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔