قومی خبریں

مردم شماری میں او بی سی کالم کے لیے ہوگا احتجاج، بارہمولہ سے ہوگی شروعات، جنتر منتر پر بھی جمع ہوں گے لوگ!

پورے ملک میں او بی سی طبقے سے تعلق رکھنے والے تقریباً 5 ہزار افراد بارہمولہ میں جمع ہوں گے۔ اس کے بعد وہ لوگ مختلف ریاستوں سے ہوتے ہوئے کنیاکماری پہنچیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر سوشل میڈیا</p></div>

علامتی تصویر سوشل میڈیا

 

مردم شماری میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کالم جوڑنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے قومی سطح پر جدوجہد کا آغاز کشمیر کے آخری گاؤں خزیمیار (بارہمولہ) سے ہوگا۔ او بی سی آفیسر اکتوبر کے وسط میں احتجاج کا آغاز کریں گے۔ پورے ملک میں او بی سی طبقے سے تعلق رکھنے والے تقریباً 5 ہزار افراد بارہمولہ میں جمع ہوں گے۔ اس کے بعد وہ لوگ مختلف ریاستوں سے ہوتے ہوئے کنیا کماری پہچیں گے۔ تحریک کے حوالے سے دونوں ڈویژنوں جموں و کشمیر میں او بی سی طبقے کے لوگوں کی حمایت حاصل کی جا رہی ہے۔ برادری نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ 20 سے 25 دنوں میں وزارت داخلہ او بی سی کالم شامل کرنے کے لیے راضی ہو جاتا ہے تو اس احتجاج کو ملتوی کر دیا جائے گا اور مرکزی حکومت کے لیے شکریہ کی تجویز منظور کی جائے گی۔

دراصل ملک میں مردم شماری کا سلسلہ جاری ہے۔ مردم شماری میں درج فہرست ذاتیں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے الگ الت کالم بنائے گئے ہیں، جبکہ او بی سی کا کالم نہیں ہے۔ او بی سی کالم کو شامل کرانے کے لیے پورے ملک میں او بی سی طبقے نے مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا آغاز بارہمولہ سے ہوگا۔ او بی سی طبقے نے ’قومی پسماندہ طبقات کمیشن‘ کی چیئرپرسن سادھوی نرنجن جیوتی سے ملاقات کی۔ ان کے ذریعے سے وزارت داخلہ کو او بی سی کالم شامل کرنے کے لیے خط بھیجا گیا ہے۔

جموں و کشمیر کے او بی سی طبقے کے عہدیداران کے مطابق وزارت داخلہ سے خط کے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ جواب ملنے کے بعد آگے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ تحریک میں جموں و کشمیر سے تقریباً 3 ہزار سے زیادہ لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔ وزارت داخلہ کے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے، تحریک کے آغاز پر پورے ملک سے او بی سی طبقے سے وابستہ افراد پہنچیں گے۔ یہ تحریک پرامن ہوگی اور اس میں صرف ایک ہی مطالبہ کیا جائے گا کہ مرکزی حکومت مردم شماری میں او بی سی کالم شامل کرے۔ تحریک کے دوران مرکزی حکومت فیصلہ کر لیتی ہے تو اس فیصلے کا استقبال کیا جائے گا۔ فیصلہ نہیں ہونے پر دوسرے مرحلے میں جنتر منتر پر احتجاج کریں گے اور مطالبہ پورا ہونے تک اتحاج جاری رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔