قومی خبریں

’شری رام کالج آف کامرس کو بھی پی ایم مودی نے انتخابی پلیٹ فارم بنا دیا‘، طلبا کی انٹری روکنے پر کانگریس نے اٹھایا سوال

کنہیا کمار نے کہا کہ 2 دنوں سے دہلی یونیورسٹی کے طلبا یہ تصور کر رہے تھے کہ پی ایم مودی آ رہے ہیں تو وہ تعلیمی نظام کے بارے میں بات کریں گے، لیکن انھوں نے تعلیم پر کوئی بات نہیں کی۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر کنہیا کمار</p></div>

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر کنہیا کمار

 

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج دہلی یونیورسٹی کے ’شری رام کالج آف کامرس‘ کا دورہ کیا۔ حالانکہ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے بیشتر طلبا کی انٹری پر روک لگا دی گئی تھی۔ اس معاملہ میں کانگریس نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے نوجوان لیڈر کنہیا کمار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب نریندر مودی 2013 میں دہلی یونیورسٹی گئے تھے، تب وہاں انھوں نے کہا تھا– اگر نصف گلاس پانی سے بھرا ہے تو نصف گلاس میں ہوا بھری ہے۔ لیکن اب سمجھ آیا کہ نصف گلاس میں پی آر بھرا ہے۔ نریندر مودی آج پھر ایس آر سی سی گئے، لیکن اس میں چنندہ طلبا کو ہی بلایا گیا، باقی طلبا کی انٹری روک دی گئی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ضروری یہ ہے کہ جس ایس آر سی سی نے ملک کو اتنا کچھ دیا ہے، مودی جی نے اسے بھی اپنا انتخابی پلیٹ فارم بنا دیا ہے، کیونکہ 18 ستمبر کو دہلی یونیورسٹی میں طلبا یونین کا انتخاب ہے۔‘‘

پی ایم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ ’’2 دنوں سے دہلی یونیورسٹی کے طلبا یہ تصور کر رہے تھے کہ پی ایم مودی آ رہے ہیں تو وہ تعلیمی نظام کے بارے میں بات کریں گے، لیکن انھوں نے کوئی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ جنتر منتر پر طلبا کی پٹائی پر بھی بات نہیں کی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ملک میں ہر روز 25 سرکاری اسکول بند ہو رہے ہیں۔ ہمارا ملک نوجوانوں سے بھرا ہوا ہے، لیکن حالات ایسے ہیں کہ ہر گھنٹے 2 نوجوان خودکشی کرتے ہیں، نیٹ پیپر لیک کے سبب 25 طلبا نے خودکشی کر لی، گزشتہ کچھ سالوں میں 150 سے زائد انجینئرنگ کالج بند ہو چکے ہیں، ملک میں بے روزگاری سب سے اعلیٰ سطح پر ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا کہ پی ایم مودی صرف 2013 اور 2047 کی بات کر رہے تھے، انھوں نے طلبا اور ملک کی عوام سے جڑے ایشوز پر کوئی بات ہی نہیں کی۔

پریس کانفرنس میں کنہیا کمار نے پی ایم مودی پر غلط بیانی کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی کنٹرول میں ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے اندر بے روزگاری اور مہنگائی تاریخی طور پر سب سے زیادہ ہے۔‘‘ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’آپ چاہتے ہیں ملک کی عوام آپ کی تشہیری مہم میں بولے گئے جھوٹ کو سچ مان کر اپنے حالات کو فراموش کر دے۔ ملک میں اسکول و کالج بند ہو رہے ہیں، آپ ایک امتحان ٹھیک سے کروا نہیں پا رہے اور یونیورسٹی میں جا کر طلبا کو ’حراست‘ میں لے کر اپنی تشہیری مہم چلا رہے ہیں۔‘‘ وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’مودی جی، اب آپ کی حقیقت سب کے سامنے آ چکی ہے، اس لیے آپ کو ’چھاتروں کی گونج‘ سے پریشانی ہو رہی ہے۔ لیکن یاد رکھیے، چھاتروں کی گونج ملک میں تبدیلی کی آواز بنے گی۔ یہی آواز آپ کے جھوٹ اور کھوکھلے دعووں کا پردہ فاش کرے گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔