
تصویر آئی این سی
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سماجی انصاف اور برابری کا مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا پورا نظام تعلیم سے نفرت کرتا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ طلبہ سوچیں یا سوال کریں۔
راہل گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں یہ الزامات عائد کیے۔ انہوں نے ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک گمنام پوسٹ میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی کتاب جاتی کا وناش (ذات کا انہدام) اور جیوتی با پھولے کی ’غلام گیری‘ سمیت کئی اہم کتابوں کو نوجوانوں کے ذہن میں ’زہر‘ بھرنے والی کتابیں قرار دیا گیا۔
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ اس پوسٹ کے اگلے ہی دن، اتوار کو، وزیر اعظم کے دفتر کی ہدایت پر وزارت تعلیم نے مرکزی یونیورسٹیوں سے متعلقہ کورسز اور ان میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد کی تفصیلات طلب کیں۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’مودی جی سماجی انصاف اور برابری کے خلاف ہیں۔ ان کا پورا نظام تعلیم سے نفرت کرتا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ طلبہ سوچیں یا سوال پوچھیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کے پیپر لیک، بے روزگاری اور سلامتی جیسے مسائل پر وزیر اعظم خاموش رہتے ہیں، لیکن انٹرنیٹ ٹرولز کے اشارے پر فوراً کام کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق، وزارت تعلیم کی جانب سے مرکزی یونیورسٹیوں سے معلومات طلب کیے جانے کا معاملہ تشویش کا باعث ہے، کیونکہ ان کے بقول اس سے طلبہ کو پڑھائے جانے والے نصاب اور ان کی فکری آزادی پر سوال اٹھتے ہیں۔
جس خبر کا راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں حوالہ دیا، اس کے مطابق وزارت تعلیم کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ایک افسر نے 27 ستمبر کو متعدد مرکزی یونیورسٹیوں کے رجسٹراروں کو ای میل بھیجا تھا۔ اس میں بعض متعلقہ کورسز میں طلبہ کے داخلے کی تفصیلات طلب کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔
خبر کے مطابق، یونیورسٹیوں سے ایک ’ایکس‘ پوسٹ کے حوالے سے ان کی رائے بھی طلب کی گئی تھی۔ اس میں وزیر اعظم کے دفتر سے موصول ہونے والی ہدایات کا حوالہ دیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
راہل گاندھی نے اس معاملے کو حکومت کی تعلیمی پالیسی اور طلبہ کے درمیان تنقیدی سوچ سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا ہے۔ تاہم، ان کے ان الزامات پر مرکزی حکومت یا وزارت تعلیم کی جانب سے اس معاملے میں کوئی تفصیلی ردعمل سامنے آنے کی صورت میں اس کا موقف بھی اہم ہوگا۔
یاد رہے کہ امبیڈکر اور پھولے کی تحریریں ہندوستان میں ذات پات، سماجی برابری اور سماجی اصلاح سے متعلق مباحث میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں انہی کتابوں سے متعلق مبینہ اعتراضات اور اس کے بعد وزارت تعلیم کی کارروائی کو حکومت کے رویے سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔