
سپریم کورٹ آف انڈیا
نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کی گئی۔ عرضی میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) سے متعلق یک طرفہ طور پر لیے گئے فیصلوں، ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے اور بعض انتخابی حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق بعض اہم فیصلے دیگر دو الیکشن کمشنروں کی رضامندی کے بغیر لیے گئے۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام فیصلوں، ہدایات اور سافٹ ویئر میں کی گئی تبدیلیوں کو غیر قانونی قرار دیا جائے، جو الیکشن کمیشن کے اکثریتی فیصلے کے بغیر کیے گئے۔
یہ عرضی ان میڈیا رپورٹس کے بعد دائر کی گئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے تھے۔ ان اعتراضات میں ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے، نئے ووٹروں کی رجسٹریشن، ووٹر ڈیٹا تک رسائی اور انتخابی سافٹ ویئر سے متعلق معاملات شامل بتائے گئے ہیں۔
درخواست گزار نے ایس آئی آر کے دوران تقریباً 13 کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) یا عدالتی انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی بھی درخواست کی ہے۔ ساتھ ہی اصل قانونی فارم-6 کو بحال کرنے اور اہل بالغ شہریوں کو مقررہ قانونی شرائط کے مطابق ووٹر کے طور پر رجسٹر کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پی آئی ایل میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے علاوہ سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ اور الیکشن کمیشن کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سربراہ سیما کھنہ کے خلاف بھی فرائض کی خلاف ورزی کے معاملے میں قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت شکایت درج کرکے مقدمہ چلانے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ان الزامات کے برخلاف کہا ہے کہ ایس آئی آر سمیت کمیشن کے فیصلے متفقہ طور پر اور دونوں دیگر الیکشن کمشنروں کی منظوری کے ساتھ لیے گئے ہیں۔ اس طرح پی آئی ایل میں عائد الزامات اور الیکشن کمیشن کے مؤقف کے درمیان واضح اختلاف موجود ہے۔
ادھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر کانگریس نے جمعہ کو ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔ چندی گڑھ میں مظاہرین نے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے دوران پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی کانگریس کارکنوں نے ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار کے خلاف مظاہرے کیے۔
کانگریس نے گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں سے متعلق معاملات میں شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے متعلق خدشات کو دور کیا جانا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔