
ہندوستانی عوام کے لیے منگل کی شروعات مہنگائی کی کاری ضرب کے ساتھ ہوئی ہے۔ آج ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تیل کمپنیوں نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 90 پیسے فی لیٹر تک کا اضافہ کیا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ محض ایک ہفتے کے دوران اس طرح کا یہ دوسرا بڑا اضافہ ہے۔
Published: undefined
تازہ ترین اضافے سے صرف 3 دن پہلے جمعہ کو ہی مرکزی حکومت نے ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا تھا۔ اس اضافے کے بعد دہلی میں پٹرول 94.77 روپئے سے بڑھ کر 97.77 روپئ اور ڈیزل 87.67 روپئے سے 90.67 روپئے ہو گیا تھا۔ اب منگل کو پھر سے قیمتوں میں اضافے کے بعد راجدھانی دہلی میں پٹرول 87 پیسے مزید مہنگا ہو کر 98.64 روپئے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے، وہیں ڈیزل 91 پیسے مہنگا ہو کر 91.58 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
Published: undefined
قومی راجدھانی دہلی کے علاوہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خوابوں کے شہر ممبئی میں پٹرول کی قیمت 91 پیسے کے اضافے کے بعد 107.59 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے جب کہ ڈیزل 94 پیسے بڑھ کر 94.08 روپئے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا ہے۔ کولکاتا میں پٹرول کی قیمت سب سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہاں پٹرول فی لیٹر 109.70 روپئے تک پہنچ گیا ہے اور ڈیزل 94 پیسے بڑھ کر 96.07 روپئے ہو گیا ہے۔ چنئی میں پٹرول 82 پیسے مہنگا ہو کر 104.49 روپے اور ڈیزل 86 پیسے مہنگا ہو کر 96.11 روپے فی لیٹرہو گیا ہے۔
Published: undefined
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے کے پیچھے بین الاقوامی عوامل ایک بڑی وجہ بتائے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مغربی ایشیا کے ممالک میں جاری تنازعات اور جنگ نے دنیا بھر میں توانائی کا بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس تنازعہ نے آبنائے ہرمز کو تقریباً مسدود کر دیا ہے، جو سمندری تجارت کے لیے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے۔ اس سال 28 فروری کو امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے برینٹ خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ خام تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ رہی ہیں حالانکہ امریکہ اور ایران خطے میں طویل مدتی جنگ بندی پر بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Published: undefined
یاد رہے کہ 3 دن پہلے جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا تھا تب وزارت پٹرولیم نے کہا تھا کہ اس اضافے کے بعد کمپنیوں کا یومیہ نقصان تقریباً 25 فیصد کم ہو کر 750 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ تقریباً 1,000 کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ کمپنیاں اخراجات کا بوجھ صارفین سے وصول کریں گی۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما کے مطابق تیل کمپنیوں کے نقصانات کی تلافی کے لیے کوئی راحت پیکج یا سبسڈی دینے پر غور نہیں کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined