قومی خبریں

سپریم کورٹ کے حراست سے متعلق فیصلے پر پون کھیڑا کا ردعمل، ’آپ کی جبر کی فیکٹری بند ہو گئی‘

پون کھیڑا نے سپریم کورٹ کے حراست سے متعلق حکم پر امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسے جبر کے خلاف فیصلہ قرار دیتے ہوئے کشمیر، پنجاب اور چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کا حوالہ دیا

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا / تصویر قومی آواز / ویپن</p></div>

پون کھیڑا / تصویر قومی آواز / ویپن

 

کانگریس رہنما پون کھیڑا نے سپریم کورٹ کے حراست سے متعلق فیصلے پر وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے ان کی جبر کی فیکٹری بند کر دی ہے۔ کھیڑا نے یہ تبصرہ ٹائمز ناؤ کی اس پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے کیا جس میں عدالت کے 24 گھنٹے سے زیادہ غیر قانونی حراست پر رہائی کے حکم کو نمایاں کیا گیا تھا۔

اپنی پوسٹ میں کھیڑا نے شاہ کو مخاطب کرکے لکھا کہ جب وہ کرنال میں ’سرکس‘ میں مصروف تھے، سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے حراست سے متعلق حکم دیا۔ انہوں نے فیصلے کو محض قانونی کارروائی کے بجائے شہری آزادیوں اور پولیس اختیارات کے استعمال پر سیاسی بحث سے جوڑا۔ کھیڑا نے کہا کہ آئین شخصی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور یہ پولیس کے لیے کوئی ایسی رسمی شرط نہیں جس سے بچنے کا راستہ نکالا جا سکے۔

کھیڑا نے عدالت کے فیصلے کے نکات گنواتے ہوئے لکھا کہ کسی شخص کو پولیس تحویل میں لینے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، وقت کا حساب اس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب کسی شخص کو حراست میں لے کر اس کی آزادی محدود کی جائے، نہ کہ اس وقت سے جب گرفتاری کا اندراج کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت تک پہنچنے کے لیے درکار حقیقی سفری وقت کے سوا کوئی دوسری مہلت شمار سے خارج نہیں ہونی چاہیے۔

کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ برسوں سے طریقۂ کار یہ رہا ہے کہ نوجوانوں کو اٹھا کر ان کی حراست کو ’پوچھ گچھ‘ یا ’کاغذی کارروائی‘ کہا جاتا ہے اور بعد میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ کھیڑا نے کشمیر، پنجاب اور چھتیس گڑھ کے خاندانوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کتنے نوجوان اس وقفے کے دوران لاپتا ہوئے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر کھیڑا نے امت شاہ سے طنزیہ سوال کیا کہ کیا انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے ساتھ ان کا ’ہنی مون‘ ختم ہو چکا ہے۔ ٹائمز ناؤ کی پوسٹ نے عدالتی حکم کو ’غیر قانونی حراست پر رہائی‘ اور ’24 گھنٹے سے زیادہ حراست نہیں‘ جیسے نکات کے ساتھ پیش کیا تھا۔

قبل ازیں، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 24 گھنٹے کی آئینی مدت اصل حراست سے شروع ہوتی ہے، رسمی گرفتاری کے اندراج سے نہیں، اور مقررہ مدت میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کیے جانے پر رہائی لازم ہے۔ فیصلے نے یہ بھی واضح کیا کہ حراست اور گرفتاری میں مصنوعی فرق کر کے آئینی تحفظ سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔