قومی خبریں

’ہماری سوچ الگ، ہمارے لیے آزادی کا مطلب صرف برسراقتدار ہونا نہیں‘، اندرا بھون میں مودی حکومت پر خوب برسے کھڑگے

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’آج مندر جیسی عقیدت والی جگہوں پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا غریب کے ذریعہ عقیدت سے دیے گئے 50 روپے کے عطیہ کی بھی حفاظت نہیں ہو سکتی ہے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>اندرا بھون میں پرچم کشائی کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>

اندرا بھون میں پرچم کشائی کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، تصویر قومی آواز/ویپن

 

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آج راجدھانی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت پر زوردار انداز میں حملہ کیا۔ 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقد پرچم کشائی تقریب میں تقریر کے دوران انھوں نے کہا کہ آج مندر جیسی عقیدت والی جگہوں پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ملک میں غریب مزید غریب ہو رہا ہے، امیر مزید امیر ہو رہا ہے۔ پھر بھی غریب اپنی چھوٹی سی کمائی میں سے 50 روپیہ مندر میں بطور عقیدت عطیہ کر دیتا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’رام مندر کی تعمیر کے لیے نریندر مودی نے ٹرسٹ تشکیل دی اور اپنے بھروسہ مند لوگوں کو اس میں شامل کیا۔ لیکن آج جب ’چندہ چوری‘ ہو رہی ہے تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ آج سوال ہے کہ غریب کے ذریعہ عقیدت سے دیے گئے اس 50 روپے کی بھی حفاظت نہیں ہے؟‘‘

حال ہی میں ختم پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’جمہوریت میں کیا یہ طریقہ درست ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں ہمارے سوالوں کا جواب نہ دیں؟ میں اور حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی مستقل طلبا اور نوجوانوں پر کی گئی بربریت پر سوال پوچھتے رہے، لیکن وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ایوان میں نہیں آئے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’امت شاہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ نہیں چل رہی تھی اس لیے میں ایوان میں نہیں آیا، لیکن میں اپنے چیمبر میں بیٹھ کر سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام نے آپ کو چیمبر میں بیٹھنے کے لیے بھیجا ہے؟‘‘

کانگریس صدر نے اپنی تقریر کے دوران مرکز کی مودی حکومت کو کئی محاذ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہماری سوچ الگ ہے۔ ہمارے لیے آزادی کا مطلب صرف اقتدار میں آنا نہیں، بلکہ ہر شہری کی زندگی میں احترام اور مواقع لانا ہے۔‘‘ وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’آزادی کا حقیقی جشن تب ہوگا جب ہر بچہ اسکول جائے، جب سب کا سلیقے سے علاج ہو، جب سبھی کو باعزت روزگار ملے، کسانوں و مزدوروں اور کمزور طبقات کے ساتھ انصاف ہو، ذات کی بنیاد پر تفریق نہ ہو اور چھوا چھوت ختم ہو، خواتین کو اصل دھارے میں آنے کا پورا موقع ملے۔‘‘ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ’’ہم ایسا ہندوستان چاہتے ہیں جہاں غریبوں کی آواز سنی جائے، کسان عزت کے ساتھ آگے بڑھے، نوجوان اپنے خوابوں کو پورا کرے اور کوئی بھی اقتدار کے سامنے سچ بولنے میں نہ ڈرے۔ یہی ہمارے مجاہدین آزادی کا خواب تھا، اور اس خواب کو پورا کرنا ہی ہماری حقیقی آزادی ہے۔‘‘

موجودہ حالات پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ’’اسرو، ڈی آر ڈی او جیسے سائنسی اداروں سے بڑے سائنسدانوں اور ماہرین کو استعفیٰ دینا پڑ رہا ہے۔ ہمارے کئی سائنسداں ایسے اہم ادارے چھوڑ رہے ہیں، کیونکہ حکومت ان اداروں میں اپنے نظریات کے لوگوں کو شامل کرنے کا دباؤ ڈال رہی ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ سبھی ہمارے ملک کے ادارے ہیں، ملک میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر سب سے زیادہ زور اگر کسی نے دیا تو وہ نہرو جی تھے۔ انھوں نے جو کچھ بنایا، اسے ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ ملک کے لیے انتہائی نقصاندہ ہے۔

آزادی کے بعد کانگریس کے وزرائے اعظم کی اہم کارگزاریوں پر بھی ملکارجن کھڑگے نے سرسری نظر ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ ’’راجیو گاندھی نے نارتھ ایسٹ اور پنجاب میں امن کے لیے پیش قدمی کی۔ آئی ٹی انقلاب کی بنیاد رکھی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جس کا فائدہ ہمیں کارگل جنگ میں ملا۔ انھوں نے نئی تعلیمی پالیسی، اسکل ڈیولپمنٹ اور جواہر نوودے ودیالیوں کے ذریعہ نوجوانوں کے لیے نئے مواقع بنائے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’راجیو گاندھی جی نے ووٹنگ کی عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کی۔ وہ چاہتے تھے کہ اکیسویں صدی میں ہندوستان کا نوجوان دنیا کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو۔‘‘

نرسمہا راؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’نرسمہا جی نے بھی گلوبلائزیشن کے ذریعہ ہندوستان کو دنیا کے لیے کھولا اور ملک کو ایک اہم ’سرمایہ کاری منزل‘ بنانے کی سمت میں آگے بڑھایا۔ اسی طرح ڈاکٹر منموہن جی نے معاشی شرح نمو کے ساتھ ترقی کو انسانی شکل عطا کی۔ منریگا، تعلیم کا حق، آر ٹی آئی، حق جنگلات ایکٹ اور فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے ذریعہ ملک کے غریب اور کمزور طبقات کے حقوق کو مضبوط کیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ان کاموں میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی جی کا بھی بہت بڑا تعاون رہا، جنھوں نے پوری محنت سے ایک ٹیم کے ساتھ مل کر پالیسیاں بنائیں اور لوگوں کو حقوق دیے۔‘‘ وہ آخر میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آج ملک میں جو بھی کچھ نظر آ رہا ہے، وہ کانگریس پارٹی کی دی ہوئی ہے۔ ہم نے نام بدلنے کی جگہ ملک میں لوگوں کے حالات بدلنے کا کام کیا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔