قومی خبریں

’آپریشن سندور‘ تو بس شروعات ہے، جنگ جاری رہے گی: لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی

لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے نے کہا کہ ’’آپریشن سندور نے ثابت کر دیا کہ خود انحصاری صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک حقیقی طاقت ہے۔ آج ہمارا 65 فیصد سے زائد دفاعی ساز و سامان سودیشی طور پر تیار ہو رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی (ویڈیو گریب)</p></div>

لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی (ویڈیو گریب)

 

’آپریشن سندور‘ کو آج ایک سال مکمل ہونے پر فوج نے جے پور میں پریس کانفرنس کی۔ اس دوران لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ اختتام نہیں ہے، یہ تو بس ایک شروعات ہے۔ اس آپریشن میں ہم نے اپنے اہداف حاصل کر لیے۔ ہمیں کامیابی ملی۔ ہم نے دشمن کو سبق سکھایا اور دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی جاری رہے گی۔

Published: undefined

لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے نے کہا کہ ’’آپریشن سندور نے ثابت کر دیا کہ خود انحصاری صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک حقیقی طاقت ہے۔ آج ہمارا 65 فیصد سے زائد دفاعی سازو سامان سودیشی طور پر تیار ہو رہا ہے۔ میں یہاں ہماری ایگزٹ اسٹریٹجی اور تناؤ پر قابو پانے کے بارے میں بھی بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں جاری طویل تنازعات کے اس دور میں ہم نے کاری ضرب لگائی، واضح طور پر متعین اہداف حاصل کیے اور پھر دشمنی ختم کرنے کا فیصلہ اس وقت لیا جب پاکستان بات چیت کے لیے مجبور ہوا اور اس نے ہم سے رکنے کی گزارش کی۔

Published: undefined

راجیو گھئی نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ یہ اہداف ایک منظم اور سخت حملے کے ذریعہ حاصل کیے گئے، جس نے دشمن کے خطرہ مول لینے کے رجحان کو بدل دیا اور ہندوستان کو کسی طویل جنگ یا تنازعہ میں الجھائے بغیر اس کے کمانڈ اور کنٹرول کے نظام کو درہم برہم کر دیا، جس کے برے نتائج ہم پوری دنیا میں جاری جنگوں میں دیکھ رہے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں نے درست معلومات فراہم کیں جو اہداف کو درست طور پر نشانہ بنانے کے لیے انتہائی اہم تھیں۔ ان کے مطابق سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر یونٹس نے انفارمیشن ڈومیننس کو برقرار رکھا۔ حکومت نے بین الاقوامی ماحول کے ساتھ ساتھ اندرونی سلامتی اور عوام کو یقین دہانی فراہم کرنے کے معاملات کو بخوبی سنبھالا۔

Published: undefined

راجیو گھئی کے مطابق آپریشن سندور نے ہماری ’سودیشی‘ صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔ اس میں استعمال کیے گئے ہتھیاروں کے نظام، گولہ بارود، راکٹ اور میزائلوں، سینسر اور الیکٹرانک وارفیئر سوٹ کا ایک بڑا حصہ ہندوستان میں ہی تیار کیا گیا تھا۔ برہموس، آکاش، جدید ترین نگرانی اور ہدف کے تعین کے نظام کے ساتھ ساتھ مقامی گولہ بارود اور پرزہ جات نے بھی اس میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ’سودیشی‘ ساز و سامان کا مطلب صرف خود انحصاری ہی نہیں تھا، بلکہ اس میں یہ لچک بھی تھی کہ ہم اپنی آپریشنل ضروریات کے مطابق انہیں ڈھال سکیں، سپلائی چین کو برقرار رکھ سکیں اور پوری رفتار اور اعتماد کے ساتھ جواب دے سکیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined