قومی خبریں

آن اسکرین مارکنگ کے خلاف این ایس یو آئی کا سی بی ایس ای ہیڈکوارٹر پر احتجاج

این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ سی بی ایس ای طلباء کے مستقبل کے ساتھ تجربہ نہیں کر سکتا۔ ملک بھر میں ہزاروں طلباء لاپروائی اور غیر حساس جانچ کے نظام کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آن اسکرین مارکنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کا منظر</p></div>

آن اسکرین مارکنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کا منظر

 

تصویر: محمد تسلیم

نئی دہلی: سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) میں ہونے والی گڑبڑی کے خلاف ہفتہ کے روز این ایس یو آئی نے پٹپڑ گنج میں سی بی ایس ای ہیڈکوارٹر پر شدید احتجاج کیا۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں طلبا اور کارکنان کی بڑی تعداد نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ غلط جانچ کے نظام کی وجہ سے ہزاروں طلباء نے غلط نمبر حاصل کیے ہیں جس سے ان کا تعلیمی مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔

Published: undefined

احتجاج کے دوران طلباء نے سی بی ایس ای کے خلاف نعرے لگائے اور جانچ کے عمل میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ این ایس یو آئی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ امتحان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود طلباء کو توقع سے کافی کم نمبر دیے گئے ہیں، جس سے طلباء اور والدین میں بے چینی اور تذبذب کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

Published: undefined

احتجاج کرنے والے این ایس یو آئی کارکنان نے سی بی ایس ای کے سامنے کئی مطالبات رکھے۔ ان میں ناقص اور آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) کے  سسٹم کا فوری خاتمہ، جانچ کی بے ضابطگیوں کی ذمہ داری کا تعین، ایک منصفانہ اور طالب علم دوستانہ انداز میں دوبارہ جانچ کے عمل کو نافذ کرنا، اور طلباء کے تعلیمی مستقبل و ذہنی صحت کی حفاظت کو یقینی بنانا شامل ہے۔

Published: undefined

این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ سی بی ایس ای طلباء کے مستقبل کے ساتھ تجربہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک بھر میں ہزاروں طلباء لاپروائی اور غیر حساس جانچ کے نظام کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ تاہم او ایس ایم کے عمل نے طلباء میں کنفیوژن، ناانصافی کا احساس اور عدم اعتماد پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی ہر متاثرہ طالب علم کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور جب تک انصاف نہیں مل جاتا، جدوجہد جاری رکھے گی۔ جاکھڑ نے یہ بھی کہا کہ ہر جوابی پرچہ میں برسوں کی محنت، خواب اور طلباء و ان کے خاندانوں کی قربانیاں شامل ہیں، اس لیے جانچ کے عمل میں کسی قسم کی غفلت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

Published: undefined

این ایس یو آئی کے صدر نے مطالبہ کیا کہ سی بی ایس ای جانچ کے عمل میں مکمل شفافیت لائے اور فوری اصلاحی کارروائی کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر طلباء کی شکایات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو این ایس یو آئی اس معاملے پر ملک گیر تحریک کو تیز کرے گی۔ احتجاج کے دوران این ایس یو آئی کے لیڈران نے کہا کہ تنظیم اس مسئلے کو ہر سطح پر اٹھاتی رہے گی اور اس وقت تک اپنی لڑائی جاری رکھے گی جب تک کہ تمام متاثرہ طلباء کو انصاف نہیں مل جاتا اور سی بی ایس ای جانچ کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا۔ این ایس یو آئی نے کہا کہ طلباء کے مفادات کا تحفظ اور منصفانہ جانچ کو یقینی بنانا اس کی ترجیح ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined