
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار
ایس آئی آر کے درمیان بے ضابطگیوں اور ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر میں پیش آنے والی خامیوں سے متعلق خبروں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے لیے پریشانیاں کھڑی کر دی ہیں۔ ایسی کئی میڈیا رپورٹس سامنے آ چکی ہیں، جو ایس آئی آر کے عمل پر سوالیہ نشان لگا رہی ہیں۔ تازہ رپورٹ انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل افسر سے متعلق شائع کیا ہے، جس میں ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ کانگریس نے اس رپورٹ کو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اب مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل افسر ایس چوکلنگم نے گیانیش کمار کے ’ووٹ چوری‘ کے کھیل پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ ایس چوکلنگم نے کہا ہے کہ ای آر او کو فیصلہ لینے کا حق دیا جائے، ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر کو نہیں۔‘‘ دراصل چوکلنگم نے ای سی آئی نیٹ سے متعلق 4 اہم مطالبات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے ہیں، جو اس طرح ہیں:
اچھے کاغذات آنے پر سماعت معاف کرنے کا متبادل ہو تاکہ بزرگ اور معذور افراد کو دفتر نہ جانا پڑے
13 طے کاغذات کے علاوہ ’دیگر دستاویزات‘ بھی قبول ہو سکیں، کیونکہ قبائلی، بے گھر یا کچھ دیگر لوگوں کے پاس وہی کاغذات نہیں ہوتے
خامیوں کا فیصلہ ای آر او خود کر سکے، ہر بار ضلع مجسٹریٹ کے پاس نہ بھیجنا پڑے
ہر معاملے میں پرانی ایس آئی آر لسٹ کو الگ سے اپلوڈ کرنا لازمی نہ ہو
ان چاروں مطالبات کا ذکر کرنے کے بعد کانگریس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یاد رہے کہ سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے بھی ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر کی مخالفت کی تھی، لیکن گیانیش کمار نے ان کی نہیں سنی تھی۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’یہ احتجاج کی آواز الگ الگ ریاستوں کے الیکٹورل افسر اٹھا رہے ہیں۔ اب گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا، کیونکہ ان کے پاس یہی ایک راستہ بچا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔