
برج بھوشن سنگھ، تصویر/آئی اے این ایس
ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سابق صدر اور بی جے پی لیڈر برج بھوشن شرن سنگھ کی مشکلات میں پھر اضافہ ہو سکتا ہے۔ خاتون پہلوانوں نے ایک بار پھر جنسی ہراسانی معاملے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ برج بھوشن سنگھ کے بری ہونے کے مجسٹریٹ کورٹ کے فیصلے کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ نے اس اپیل پر برج بھوشن اور ونود تومر کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔
راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج دگ ونے سنگھ نے پیر (28 ستمبر) کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔ خاتون پہلوانوں کا موقف ہے کہ نچلی عدالت کا فیصلہ ’دقیانوسی اور فرسودہ تصورات‘ پر مبنی ہے۔ ساتھ ہی ڈبلیو ایف آئی کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو کرمنل دھمکی کے چارج سے بری کرنے کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا ہے۔ عدالت نے برج بھوشن اور ونود تومر کو 3 اگست کو بری کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ خاتون پہلوانوں کی جانب سے اس وقت کے ڈبلیو ایف آئی صدر برج بھوشن شرن سنگھ پر لگائے گئے جنسی ہراسانی معاملہ سے جڑا ہے۔ اس کو لے کر 2023 میں متاثرہ خاتون پہلوانوں نے جنتر منتر پر زبردست احتجاج درج کرایا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے اس معاملے میں برج بھوشن شرن سنگھ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 354، 354اے، 354ڈی اور 506 میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔
رواں سال اگست میں دہلی کے راؤز ایونیو کورٹ نے ملزم برج بھوشن سنگھ اور شریک ملزم ونود تومر سمیت تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ راؤز ایونیو کورٹ کے ایڈیشنل چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ (اے سی جے ایم) نے ثبوتوں کی کمی اور گواہوں کے بیانات میں تضاد کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ استغاثہ الزامات کو پوری طرح ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت سے راحت ملنے کے بعد برج بھوشن سنگھ نے اسے سچائی کی جیت قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں نے پہلے ہی دن کہا تھا کہ اگر میرے خلاف ایک بھی الزما ثابت ہو گیا تو میں خود کو پھانسی پر لٹکا لوں گا۔‘‘ دوسری جانب اب 4 خاتون پہلوانوں کی جانب سے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اب سیشن کورٹ معاملے کی آئندہ سماعت 9 اکتوبر کرے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔