قومی خبریں

اسپیکر اوم برلا کے خلاف ’عدم اعتماد کی تحریک‘ ناکام، لوک سبھا نے صوتی ووٹوں سے کیا خارج

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی ’عدم اعتماد کی تحریک‘ صوتی ووٹ سے مسترد کر دی گئی۔ 2 دنوں تک جاری رہنے والی بحث کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے اسپیکر کا بھرپور دفاع کیا۔

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، تصویر آئی اے این ایس

 

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف لوک سبھا میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک صوتی ووٹ سے خارج کر دی گئی ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک پر لوک سبھا میں 2 دنوں تک بحث ہوئی۔ لوک سبھا میں بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اسپیکر اوم برلا کا بھرپور دفاع کیا اور اپوزیشن پر جم کر حملہ بولا۔ اس تحریک کے خارج ہونے کے بعد اب اوم برلا لوک سبھا کے اسپیکر کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ لوک سبھا میں اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی حمایت سے پیش کی تھی۔ تحریک کی حمایت میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکر پر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے کا الزام عائد کیا تھا۔ حالانکہ این ڈی اے کے لیڈران نے ان الزامات کی تردید کی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’’ایوان کا کام کاج باہمی اعتماد اور قوانین کی پابندی پر مبنی ہے۔ اسپیکر کی ذمہ داری ایوان کے ایک غیر جانبدار نگراں کے طور پر کام کرنا ہے۔‘‘

Published: undefined

امت شاہ نے مزید کہا کہ ’’اس ایوان کی قائم کردہ تاریخ کے مطابق اس کی کارروائی باہمی اعتماد کی بنیاد پر چلتی ہے۔ اسپیکر ایک غیر جانبدار نگراں کے طور پر کام کرتے ہیں، جو حکمراں جماعت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی لوک سبھا نے خاص قواعد بنائے ہیں تاکہ اسپیکر کی رہنمائی کی جا سکے کہ سیشن کیسے چلانا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کے قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کے مطابق بولیں اور حصہ لیں۔‘‘

Published: undefined

دوسری جانب اپوزیشن اراکن پارلیمٹ نے دلیل دی کہ یہ تحریک پارلیمنٹ میں اختلاف رائے کے لیے کم ہوتی جگہ پر تشویش ظاہر کرنے کے لیے لائی گئی تھی۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ ابھے کمار سنہا نے کہا کہ ’’اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو اکثر لگتا تھا کہ انہیں چیئر (اسپیکر) سے مکمل تحفظ فراہم نہیں ہو رہا ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کچھ وقت سے چیئر ایوان کی آزادی کو نہیں بلکہ حکمراں جماعت کے مظالم کی علامت بن گئی ہے۔‘‘

Published: undefined

آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ’’اس ایوان نے وہ سیاہ دن بھی دیکھا جب ایک روز میں 140 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا تھا۔ حقیقی جمہوریت وہ ہے جس میں سب سے غریب اور کمزور شخص کو بھی محسوس ہو کہ ان کی آواز سنی جا سکتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جب بھی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ ایوان میں بولنے کی کوشش کرتے تھے تو چیئر کی طرف سے اکثر نہیں، نہیں، نہیں ہی دہرایا جاتا تھا۔‘‘

Published: undefined

جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) ک رکن پارلیمنٹ وجے کمار ہنسدک نے کہا کہ ’’ایوان میں اپوزیشن کی تقریروں کے دوران رکاوٹیں آنا اب ایک عام بات ہو گئی ہے۔ جب اپوزیشن کے اراکین بولتے ہیں تو انہیں روکا جاتا ہے اور یہ اب ایک روایت بن چکی ہے۔ ایک اور روایت یہ ہے کہ جب اراکین بول رہے ہوتے ہیں، تو کیمرہ دوسری سمت موڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ این سی پی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ بجرنگ منوہر سوناونے نے کہا کہ ’’اپوزیشن کو معلوم تھا کہ تحریک شاید فیل ہو جائے گی، لیکن وہ اس بحث کا استعمال پارلیمنٹ کے اندر جمہوری حقوق کے بارے میں خدشات اٹھانے کے لیے کرنا چاہتے تھے۔‘‘

Published: undefined

رکن پارلیمنٹ بجرنگ منوہر نے یہ بھی کہا کہ ’’کوئی بھی اسپیکر پر کوئی ذاتی حملہ نہیں کر رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ووٹنگ میں کیا ہوگا، لیکن ہم یہ عدم اعتماد کی تحریک اس لیے لائے ہیں تاکہ ہمارے پاس جو جمہوری حقوق ہیں، انہیں نمایاں کر سکیں۔‘‘ انہوں نے بحث کے دوران چیئر کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جیسے ایک ٹیبل فین صرف ایک طرف کولنگ دیتا ہے، جب اوم برلا دائیں جانب دیکھتے ہیں تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے اور جب ہو دوسری طرف دیکھتے ہیں تو بس نہیں، نہیں، نہیں ہی کہتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined