قومی خبریں

ایس آئی آر کے خلاف ملک گیر احتجاج، دہلی میں الیکشن کمیشن کی جانب مارچ کے دوران کئی مظاہرین حراست میں

ایس آئی آر اور انتخابی دھاندلی کے خلاف دہلی، پٹنہ اور بنگلورو سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مارچ نکالے گئے اور گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ دہلی میں پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر قومی آواز / وپن</p></div>

تصویر قومی آواز / وپن

 

نئی دہلی: ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جمعہ کو دہلی سمیت ملک کے کئی شہروں میں کسانوں، طلبہ، نوجوانوں، مزدوروں اور مختلف تنظیموں نے احتجاجی مارچ نکالا۔ دہلی میں الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کی جانب مارچ کے دوران پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ علاقے میں پہلے ہی امتناعی احکامات نافذ کیے گئے تھے۔

’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ کی دہلی رابطہ کمیٹی کی جانب سے منعقدہ اس مارچ میں مختلف طلبہ، نوجوانوں اور کسان تنظیموں کے کارکنوں نے حصہ لیا۔ مظاہرین قومی پرچم اور تنظیموں کے بینر لے کر مارچ میں شامل ہوئے۔ اس دوران ’گیانیش کمار استعفیٰ دو‘، ’ایس آئی آر روکو‘ اور ’ووٹ چوری برداشت نہیں کریں گے‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔

مارچ میں سی پی ایم کی سینئر رہنما ورندا کرات، سماجی کارکن یوگیندر یادو، کسان تنظیموں، آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن (اے آئی ڈی ڈبلیو اے)، آل انڈیا یوتھ فیڈریشن اور آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے آئی ڈی ایس او) کے ارکان نے شرکت کی۔ انقلابی یوتھ آرگنائزیشن (کے وائی ایس) اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے بھی احتجاج کی حمایت کی۔ مارچ میں دہلی، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش کے کارکن شامل ہوئے۔

مارچ کا آغاز کالی باڑی مارگ اور بھائی ویر سنگھ مارگ کے چوراہے پر واقع گول ڈاک خانہ کے قریب سے ہوا۔ اس سے قبل بنگلہ صاحب گرودوارے کے آس پاس سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور دہلی پولیس کے ساتھ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکے جانے پر وہ سڑک پر بیٹھ گئے اور منتظمین کے اعلان کے مطابق ’جن سنسد‘ منعقد کی۔ ایک مظاہرین نے کہا کہ یہ محض جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر بحال کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ جمہوریت اور ملک کو بچانے کی لڑائی ہے۔ ایک دوسرے مظاہرین نے کہا کہ اگر جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹایا گیا تو ملک کی ہر سڑک جنتر منتر بن جائے گی۔

’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ کے مطابق 18 ریاستوں کے 88 شہروں میں 145 تنظیموں کی شرکت سے احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ تنظیم نے یکم نومبر تک اپنے احتجاجی پروگراموں کا اعلان بھی کیا ہے۔ ایس آئی آر اور انتخابی دھاندلی کے خلاف پٹنہ میں بھی سنیوکت کسان مورچہ اور آل انڈیا کسان سبھا سمیت مختلف بائیں بازو کی تنظیموں نے مارچ نکالا۔ مظاہرین نے ایس آئی آر پر روک لگانے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

بنگلورو میں بھی ٹاؤن ہال سے فریڈم پارک تک احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ اس میں سی جے پی، عام آدمی پارٹی اور بائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنوں نے قومی پرچم کے ساتھ شرکت کی۔ مارچ کے باعث شہر کے مرکزی کاروباری ضلع میں ٹریفک جام ہوا۔

دہلی ٹریفک پولیس کے مطابق وسطی دہلی کے بعض علاقوں میں دوپہر ایک بجے سے شام پانچ بجے تک ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر رہنے کا امکان تھا۔ پولیس نے بنگلہ صاحب گرودوارے، کناٹ پلیس، پارلیمنٹ اسٹریٹ اور جنتر منتر کے آس پاس جانے والوں کو متبادل راستے اختیار کرنے اور سفر کی پیشگی منصوبہ بندی کرنے کا مشورہ دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔