
شراب کی بوتلیں / تصویر آئی اے این ایس
ناگالینڈ میں مشتبہ زہریلی شراب پینے کے باعث 19 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ گزشتہ 2 دنوں میں الگ الگ علاقوں سے موت کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ پولیس کے مطابق اموات موکوکچُنگ اور توئین سانگ اضلاع میں ہوئی ہیں۔ موکوکچُنگ میں 8 اور توئین سانگ میں 11 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ ان لوگوں نے ملاوٹی یا غیر قانونی شراب پی تھی۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ویسپرا کیزو نے ہفتہ (26 ستمبر) کو بتایا کہ معاملے کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آئی بنگلانگ چانگ کو ٹیم کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ ایس آئی ٹی اموات کی وجہ کا پتہ لگائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مشتبہ ملاوٹی شراب کہاں سے لائی گئی تھی اور اس کی سپلائی چین کہاں تک پھیلی ہوئی تھی اس کی بھی جانچ کرے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ کے دوران کچھ سراغ ملے ہیں، تاہم ابھی ان کے بارے میں زیادہ معلومات شیئر نہیں کی گئی ہیں۔ پولیس نے مشتبہ شراب کے نمونے جانچ کے لیے گوہاٹی بھیجے ہیں۔ ان کی فارنسک جانچ کی جائے گی۔ اس سے اموات کی اصل وجہ کا پتہ لگانے میں مدد ملے گی۔ پولیس نے معاملے میں کئی جگہ چھاپے ماری بھی کی ہے۔ کارروائی کے دوران 19 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور تقریباً 3 ہزار شراب کی بوتلیں بھی ضبط کی گئی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ناگالینڈ میں 1990 یعنی 36 سال سے شراب بندی قانون نافذ ہے۔ اس کے باوجود ریاست میں غیر قانونی شراب کی فروخت اور سپلائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس اب اس نیٹورک کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔ پولیس نے لوگوں سے نامعلوم یا بغیر لیبل والی شراب نہ پینے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی مشتبہ غیر قانونی شراب سے بھی دور رہنے کو کہا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ شراب پینے کے بعد چکر آنا، دھندلا دکھائی دینا، سانس لینے میں پریشانی یا بیہوشی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً اسپتال جائیں۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ شراب کی سپلائی سے منسلک لوگوں کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔