
بی ایم سی / سوشل میڈیا
ممبئی میں موسلادھار بارش کے دوران کھلے مین ہول میں گر کر 60 سالہ اسلم اسحاق شیخ کی ہلاکت کے بعد برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ساکی ناکہ علاقے کی خیرانی روڈ پر پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کے بعد شہری انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ وارڈ کے چار افسران کو معطل کر دیا ہے، جبکہ پورے معاملے کی جانچ کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔
Published: undefined
میونسپل انتظامیہ کے مطابق اسلم شیخ بارش کے دوران کھلے مین ہول میں گر گئے تھے، جس کے بعد تلاش کے دوران ان کی لاش برآمد ہوئی۔ واقعے نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ مسلسل بارش کے باعث ممبئی کے کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب ہیں اور نکاسیٔ آب کا نظام دباؤ کا شکار ہے۔
ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے واقعے پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شدید بارش کے پیش نظر ریڈ الرٹ نافذ تھا اور اسی دوران مین ہولوں پر جالیاں نصب کرنے کا کام جاری تھا، لیکن متعلقہ مقام پر نہ حفاظتی رکاوٹیں لگائی گئیں اور نہ ہی عوام کو خبردار کرنے کے مناسب انتظامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی، چار افسران کو معطل کر دیا گیا ہے اور متاثرہ خاندان کو دس لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کی جانچ کی جائے گی کہ اگر منصوبہ دو سال پہلے منظور ہوا تھا تو کام بروقت کیوں مکمل نہیں کیا گیا اور بارش کے دوران ہی اسے انجام دینے کی نوبت کیوں آئی۔
Published: undefined
واقعے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی سنجے اپادھیائے نے اسے نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے کئی حادثات پیش آ چکے ہیں، اس لیے کھلے مین ہول چھوڑنا اور حفاظتی انتظامات نہ کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ممبئی کے صدر امت ساٹم نے کہا کہ مین ہولوں پر مضبوط ڈھکن موجود ہونے چاہئیں اور معمولی سی غفلت بھی انسانی جان لے سکتی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں درخت گرنے سے ایک بچے کی ہلاکت سمیت کئی حادثات پیش آ چکے ہیں، اس لیے شہری ڈھانچے کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
Published: undefined
شیوسینا کے رکن اسمبلی دلیپ لانڈے نے کہا کہ یہ جانچ ہونی چاہیے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں کھلا رہا اور موقع پر میونسپل عملہ کیوں موجود نہیں تھا۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمان سنیل تٹکرے نے کہا کہ شدید بارش اپنی جگہ، لیکن ایسے واقعات میں انتظامیہ کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔
ادھر شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن اسمبلی سنیل پربھو نے اس واقعے کو منصوبہ بندی کی ناکامی قرار دیا، جبکہ کانگریس کے رہنما نانا پٹولے نے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بدعنوانی اور انتظامی غفلت کے باعث شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ کانگریس کے رکن اسمبلی امین پٹیل نے بھی برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسلسل پیش آنے والے حادثات اس بات کا ثبوت ہیں کہ نکاسیٔ آب اور مین ہولوں کی دیکھ بھال میں سنگین کوتاہی برتی جا رہی ہے، جس کے لیے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined