قومی خبریں

رکن پارلیمنٹ کے بیٹے نے لگژری کار سے ایک خاتون کو کچلا، موت کے بعد کیس درج

پولیس نے ملزم کا ڈرنک ڈرائیونگ اور ڈرگ ٹیسٹ کرایا ہے۔ ان کے خون کے نمونے بھی لیے گئے ہیں، جنہیں جانچ کے لیے فارنسک سائنس لیبارٹری بھیجا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>حادثہ علامتی تصویر/ آئی اے این ایس</p></div>

حادثہ علامتی تصویر/ آئی اے این ایس

 

حیدرآباد میں تیز رفتار ایسٹن مارٹن کار کی ٹکر سے 26 سالہ خاتون کی موت ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق 16 اگست کو ’ان آربٹ مال‘ کے سامنے سڑک پار کرتے وقت تیز رفتار ایسٹن مارٹن کار نے خاتون کو ٹکر مار دی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے ’جن سینا پارٹی‘ کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ لنگامنی رمیش کے بیٹے لنگامنی سنجوش کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ان پر لاپروائی اور انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کا الزام ہے۔

متوفی خاتون کی شناخت بھارتی مکھی کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ ’ان آربٹ مال‘ کے ایک اسٹور میں سیلز وومن کے طور پر کام کرتی تھیں۔ مادھا پور پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کے وی سبّاراؤ کے مطابق بھارتی اپنی ایک ساتھی کے ساتھ دوپہر تقریباً 3 بجے آئی ٹی سی کوہ نور کی طرف کھانا لینے گئی تھیں۔ واپس لوٹتے وقت جب وہ مال کے سامنے سڑک پار کر رہی تھیں، تب مبینہ طور پر تیز رفتار سے آ رہی کار نے انہیں ٹکر مار دی۔

اس ٹکر کے بعد بھارتی کے سر میں شدید چوٹ آئی اور کافی خون بہنے لگا۔ انہیں فوری طور پر جوبلی ہلز واقع اپولو اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ (1)106 کے تحت مقدمہ درج کر کے جانچ شروع کر دی۔ جانچ کے دوران پولیس نے کار کے مبینہ ڈرائیور کی شناخت 21 سالہ لنگامنی سنجوش کے طور پر کی۔ پولیس کے مطابق سنجوش ’جن سینا پارٹی‘ کے راجیہ سبھا رکن اور کاروباری لنگامنی رمیش کے بیٹے ہیں۔ پولیس نے سنجوش کو حادثے والے دن ہی حراست میں لے لیا تھا۔ وہ خود بھی کاروباری بتائے جاتے ہیں اور مادھا پور علاقے کے رہنے والے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ملزم کا ڈرنک ڈرائیونگ اور ڈرگ ٹیسٹ کرایا ہے۔ ان کے خون کے نمونے بھی لیے گئے ہیں، جنہیں جانچ کے لیے فارنسک سائنس لیبارٹری بھیجا گیا ہے۔ حادثے میں شامل ایسٹن مارٹن کار کو بھی پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ پولیس اس معاملے کی مزید جانچ کر رہی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔ جانچ کے بعد ہی حادثے سے جڑے دیگر پہلوؤں اور ذمہ داری کے بارے میں صورت حال مزید واضح ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔