
راہل گاندھی و نریندر مودی / سوشل میڈیا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جلد ہی ہندوستان کے دورے پر پہنچنے والے ہیں۔ سامنے آئی رہی رپورٹس کے مطابق وہ ممبئی اور گجرات کے جام نگر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس درمیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت پر طنز کے تیر چلائے ہیں۔ انھوں نے مارکو روبیو کے ذریعہ اپنے ملازم کو ممبئی طلب کرنے کی خبروں سے پیدا ہلچل کو لے کر ایک سوشل میڈیا پوسٹ کیا ہے، جس میں افسران کے درمیان پیدا عجیب و غریب حالات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اپنی پوسٹ میں راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’مسٹر روبیو نے اپنے ملازم کو ممبئی طلب کیا ہے۔ مودی جی، وزارت خارجہ میں آپ کے افسران اس بات کو لے کر الجھن میں ہیں کہ آخر چل کیا رہا ہے۔ آپ کو شاید اس کی وضاحت کرنی چاہیے، یا پھر اگر آپ چاہیں تو میں اس کی وضاحت کر دوں!‘‘ دراصل کانگریس نے پہلے بھی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مجوزہ ممبئی دورہ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن پارٹی نے پوچھا ہے کہ وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کی امریکی وزیر خارجہ سے ممکنہ ملاقات پر ہندوستانی وزارت خارجہ اب تک خاموش کیوں ہے؟
اس معاملہ میں کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی تھی۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں امریکی سفیر کے ذریعہ مارکو روبیو کے آئندہ ممبئی دورہ پر حکومت ہند کے افسران سے ملاقات کے بارے میں مزید تفصیل دینا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہندوستان کو 10 مئی 2025 کی شام روبیو سے ہی پہلی بار پتہ چلا تھا کہ آپریشن سندور روک دیا گیا ہے۔‘‘
جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر کا یہ کہنا بہت غیر معمولی ہے کہ ڈاکٹر جئے شنکر کے بھی دیگر لوگوں کے ساتھ وہاں شامل ہونے کی امید ہے۔ کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ ہندوستانی کے وزیر خارجہ کی ملک کے اندر ہونے والی میٹنگوں کا اعلان ہندوستانی وزارت خارجہ کے آفیشیل ترجمان کی جگہ کسی دوسرے فریق کے ذریعہ کب سے کیا جانے لگا؟ انھوں نے یہ بھی پوچھا کہ ممبئی میں روبیو کے ساتھ وزیر خارجہ کی ملاقات کو لے کر وزارت خارجہ خاموش کیوں ہے؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔