قومی خبریں

سابق فوجیوں کے مسائل پر مودی حکومت کٹہرے میں، راہل گاندھی کے سوالات پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام

کانگریس کا کہنا ہے کہ جب راہل گاندھی نے سابق فوجیوں کے اہم مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا تو حکومت نے ان کے سوالات کو سنجیدگی سے لینے کی جگہ ٹال مٹول والا رویہ اختیار کیا۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

کانگریس نے آج ایک بار پھر سابق فوجیوں کے مسائل کو اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے حال ہی میں ’جن سنسد‘ کے دوران ان سابق فوجیوں سے ملاقات کی تھی جو ملک کی خدمت کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ اس ملاقات میں سابق فوجیوں نے ایکس سروس مین کنٹریبیوٹری ہیلتھ اسکیم (ای سی ایچ ایس) میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔

کانگریس کے مطابق ملک بھر میں 72 لاکھ سے زائد سابق فوجی اور ان کے اہل خانہ اپنی طبی سہولیات کے لیے ای سی ایچ ایس پر انحصار کرتے ہیں، لیکن انہیں بنیادی سہولیات کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ جب راہل گاندھی نے ان کے مسائل پارلیمنٹ میں اٹھائے تو حکومت نے ان کے سوالات کو سنجیدگی سے لینے کی جگہ ٹال مٹول والا رویہ اختیار کیا۔

کانگریس نے الزام لگایا کہ حکومت کے پاس نہ تو بقایہ رقم کے بارے میں کوئی واضح معلومات ہیں اور نہ ہی ادائیگی میں تاخیر کی وجوہات پر کوئی ٹھوس جواب دیا گیا ہے۔ حکومت نے صرف یہ تسلیم کیا ہے کہ ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے، لیکن اس کی وجوہات پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ پارٹی نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ای سی ایچ ایس کو مناسب فنڈنگ فراہم نہیں کی جا رہی، تاہم حکومت نے اس اہم سوال کا جواب دینے سے بھی گریز کیا کہ ضروری فنڈز کیوں جاری نہیں کیے جا رہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined