
پرچم کشائی کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر کھڑگے، تصویر قومی آواز/ویپن
’’مودی حکومت کی جیب میں نہ پیسے ہیں اور نہ دماغ میں سوچ۔ ملک کے لیے ہمیں ہی کرنا ہے، جس کا وقت جلد آ رہا ہے۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے یومِ آزادی کے موقع پر اندرا بھون میں منعقد پرچم کشائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے پرچم کشائی کے بعد تقریب میں شریک لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن، عدلیہ، یونیورسٹیز، جانچ ایجنسیاں اور میڈیا حکومت کی مداخلت کی زد میں ہیں، اسی لیے عوام کا اعتماد ڈگمگا گیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت نے ملک کی عوام کو کوئی حق نہیں دیا۔ فوڈ سیکورٹی سے لے کر تعلیم کے حقوق کانگریس لے کر آئی ہے، لیکن پھر بھی کچھ لوگ ان باتوں کو مسترد کرتے ہوئے سارا سہرا خود لینا چاہتے ہیں۔ ہم نے نام نہیں بدلے، لوگوں کی زندگی بدلی ہے۔‘‘
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی موجودگی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پرچم کشائی کے بعد سب سے پہلے ہندوستانی عوام کو 80ویں یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج کا تاریخی دن صرف آزادی کی جدوجہد کو یاد کرنے کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ سوال پوچھنے کا بھی دن ہے کہ جس ہندوستان کا خواب ہمارے مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا، وہ کہاں تک پورا ہوا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کانگریس پارٹی اپنی 141 سالہ تاریخ میں 62 سالوں تک غیر ملکی حکومت سے نبرد آزما ہوتی رہی۔ لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں، جیلوں میں غیر انسانی سلوک برداشت کیے، انھیں ہم سلام پیش کرتے ہیں۔‘‘
مہاتما گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ’’جب مہاتما گاندھی جی نے ’کرو یا مرو‘ کا نعرہ دیا اور سبھی بڑے لیڈران جیلوں میں تھے، تب ملک کے نوجوانوں نے ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کو آگے بڑھایا۔‘‘ آزادی کے حقیقی معنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ہمارے مجاہدین آزادی نے صرف انگریزی حکومت سے نہیں بلکہ غریبی، بے روزگاری، چھوا چھوت، ناانصافی اور خوف سے بھی آزادی کا خواب دیکھا تھا۔ آزادی صرف اقتدار میں تبدیلی نہیں، ہر ہندوستانی کی زندگی کو بہتر بنانے کا عزم تھا۔ کانگریس کے ہر وزرائے اعظم نے اسی سوچ کو آگے بڑھایا ہے۔‘‘ ملک کے پہلے وزیر اعظم کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ’’نہرو جی نے کہا تھا– ہماری نسل کے عظیم شخص کی خواہش ہر شخص کے آنسو پونچھنے کی رہی ہے۔ ہو سکتا ہے ہم اتنا کچھ نہ کر پائیں، لیکن جب تک لوگوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں، ہمارا کام پورا نہیں ہوگا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’لال بہادر شاستری نے ملک میں سبز انقلاب اور سفید انقلاب کی بنیاد مضبوط کی، جبکہ اندرا گاندھی نے ہندوستان کی فوجی اور اسٹریٹجک طاقت کو مضبوط کیا۔ کانگریس پارٹی کا ملک کی تعمیر میں بہت بڑا تعاون ہے، لیکن آج کچھ لوگ لال قلعہ سے کہتے ہیں کہ سب کچھ انھوں نے ہی کیا ہے۔‘‘
کانگریس سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے سابق وزرائے اعظم کی تعریف کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’کانگریس کی یہی روایت رہی ہے کہ ہر وزیر اعظم نے اپنے وقت کے چیلنجز کے مطابق ہندوستان کو آگے بڑھایا اور اگلے ہندوستان کی بنیاد رکھی۔ لیکن آج سوال یہ ہے کہ ہم نے جن نوجوانوں کو 21ویں صدی میں دنیا کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے کا خواب دکھایا ہے، اس کا کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’آج نوجوانوں کے خواب کچلے جا رہے ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں نے انھیں ایسی تاریک گلی میں دھکیل دیا ہے، جس کے سبب ملک بھر میں نوجوان تحریک چلا رہے ہیں۔ ہم ان نوجوانوں کے ساتھ ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔ آئین نے شہریوں کو پُرامن تحریک چلانے کا حق دیا ہے۔ اپنے حق کے لیے سڑکوں پر اترنا ملک سے غداری نہیں ہے۔ اپنے حق کی آواز اٹھانے والا جین-زی غدارِ وطن نہیں ہے۔ جس حق کے لیے ہمارے نوجوان انگریزی حکومت میں پھانسی کے پھندے پر چڑھ گئے، ہمیں آج بھی ان حقوق کی حفاظت کرنی ہے۔‘‘
اپنے خطاب میں ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت کو کئی مواقع پر زوردار اندز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت میں بنیادی ایشوز پر تحریک کرنے والوں کے خلاف ’پیڈ مہم‘ چلائی جاتی ہے۔ اسی لیے راہل گاندھی نے کہا تھا– ہم سب کو گلے لگائیں گے اور ملک میں محبت کی دکان کھولیں گے۔ جب ملک میں امن رہے گا تبھی ترقی ہوگی اور خوشحالی آئے گی، لیکن مودی حکومت صرف نفرت پھیلانا جانتی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جس طرح آر ایس ایس کے لوگوں نے آزادی سے پہلے ملک کے خلاف کام کیا، ویسے ہی بی جے پی آزادی کے بعد ملک کے خلاف کام کر رہی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔