
گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia
کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ملک بھر کے کانگریس لیڈران و کارکنان کو دہلی پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹی کے مطابق مودی-شاہ یکم نومبر کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں مقرر ’دہلی چلو مارچ‘ سے گھبرا گئے ہیں، اس لیے تلنگانہ اور دیگر ریاستوں کی ریلویز میں درخواست کے باوجود انھیں دہلی کے لیے ٹرینیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
اس بارے میں کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مودی-شاہ اس قدر گھبرائے ہوئے ہیں کہ انھوں نے یکم نومبر کو ہونے والے ’دہلی چلو مارچ‘ اور میگا ریلی میں شرکت کے لیے ملک بھر سے دہلی کا رخ کرنے والے لوگوں کو روکنا شروع کر دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی جانکاری دی ہے کہ ’’ہندوستانی ریلوے نے تلنگانہ سے آنے والے ہمارے اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی اور پُرعزم کارکنوں کے لیے ٹرینیں فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہماری جانب سے متعدد درخواستیں کیے جانے کے باوجود وہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس لیڈران و کارکنان نے اس عمل کے خلاف مظاہرہ بھی شروع کر دیا ہے۔ کے سی وینوگوپال نے مطلع کیا کہ ’’ہمارے لیڈران نے اس کے خلاف ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے جنرل منیجر کے دفتر میں احتجاج شروع کر دیا ہے۔ ووٹ چوری کے خلاف عوامی تحریک کو دبانے کی یہ کوششیں قطعی کامیاب نہیں ہوں گی۔‘‘ اس پوسٹ میں کانگریس کارکنان کے مظاہروں کی کچھ ویڈیوز بھی انھوں نے شیئر کی ہیں۔ اس بارے میں وہ ریلوے حکام سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ریلوے حکام کو چاہیے کہ وہ یکم نومبر تک بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے مناسب تعداد میں ٹرینوں کا انتظام یقینی بنائیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔