قومی خبریں

انتخابی ریاستوں میں ضابطۂ اخلاق نافذ، سرکاری ویب سائٹس سے وزراء کی تصاویر ہٹانے کی ہدایت

چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے فوراً بعد وزراء کی تصاویر سرکاری ویب سائٹس سے ہٹانے، سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال اور فنڈ جاری کرنے پر روک لگا دی گئی

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

الیکشن کمیشن آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: ہندوستان کے انتخابی کمیشن نے چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں اسمبلی انتخابات کے پروگرام کے اعلان کے فوراً بعد ضابطۂ اخلاق نافذ کر دیا ہے۔ کمیشن نے اس کے ساتھ ہی متعدد اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری وسائل اور سرکاری مشینری کو کسی بھی طرح کے انتخابی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کے تحت سرکاری ویب سائٹس سے وزراء اور دیگر سیاسی عہدہ داروں کی تصاویر ہٹانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

Published: undefined

انتخابی کمیشن کی جانب سے متعلقہ ریاستوں کے کابینہ سکریٹریوں اور چیف سکریٹریوں کو ایک جیسے خطوط بھیجے گئے ہیں۔ ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ ضابطۂ اخلاق کے تمام اصولوں کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ سرکاری عمارتوں یا عوامی مقامات پر سیاسی تشہیر، عوامی املاک کو خراب کرنے، سرکاری گاڑیوں کے غلط استعمال اور سرکاری خرچ پر اشتہارات جاری کرنے جیسے اقدامات ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئیں گے۔

کمیشن نے انتخابی اخراجات کی نگرانی اور اس کے سخت نفاذ کے لیے بھی ہدایات دی ہیں۔ اس مقصد کے لیے فلائنگ اسکواڈ، نگرانی ٹیمیں اور ویڈیو سرویلنس یونٹ فوری طور پر فعال کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ شراب، نقد رقم اور ممنوعہ اشیاء کی نقل و حمل پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ انتخابی عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جا سکے۔

Published: undefined

انتخابی کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ ہر ضلع میں چوبیس گھنٹے کام کرنے والے کنٹرول روم فوری طور پر قائم کیے جائیں۔ ان کنٹرول رومز میں مناسب افرادی قوت اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری ضلع انتخابی افسران اور ریاستی چیف الیکشن افسران پر ہوگی۔

کمیشن نے وزراء کے سرکاری دوروں کے حوالے سے بھی واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے کے بعد کوئی بھی وزیر اپنے سرکاری دورے کو انتخابی تشہیر کے ساتھ نہیں جوڑ سکتا اور نہ ہی انتخابی سرگرمیوں کے لیے سرکاری عملہ یا سرکاری وسائل استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

Published: undefined

مزید برآں کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ جہاں انتخابات ہو رہے ہیں وہاں پارلیمنٹ کے ارکان یا ریاستی اسمبلی کے ارکان کی مقامی علاقہ ترقیاتی منصوبوں کے تحت نئی رقم جاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انتخابی عمل مکمل ہونے تک ایسے تمام فنڈز کے اجرا پر پابندی برقرار رہے گی۔

انتخابی کمیشن نے ہر ریاست میں چیف سکریٹری کی قیادت میں ایک اسکریننگ کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ یہ کمیٹی مختلف سرکاری محکموں سے آنے والی تجاویز کا جائزہ لے گی اور ضابطۂ اخلاق سے متعلق معاملات کو کمیشن کے پاس بھیجنے سے پہلے ان کی جانچ کرے گی تاکہ انتخابی عمل مکمل طور پر غیر جانبدار اور شفاف رہ سکے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined