
اتر پردیش کے بریلی ضلع سے گزر رہی ایک بس میں 6 ماہ کی حاملہ مہاجر خاتون مزدور نے جڑواں بچیوں کو جنم دیا۔ چونکہ یہ بچیاں اپنے وقت سے کافی پہلے دنیا میں آ گئی تھیں اس لیے کمزور تھیں اور غالباً یہی وجہ ہے کہ پیدائش کے محض ایک گھنٹے کے اندر ہی دونوں بچیاں فوت کر گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ معاملہ اتوار کا ہے اور ڈاکٹروں نے خاتون مزدور کو کوارنٹائن سنٹر میں ڈال دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہاں خاتون کے کورونا ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے جائیں گے اور پھر لیب بھیجا جائے گا۔
خبروں کے مطابق مغربی بنگال کے کوچ بہار ضلع کے رہنے والے 26 سالہ متھن میاں اور ان کی بیوی 24 سالہ فاطمہ بی دونوں ہاپوڑ ضلع میں اینٹ کے ایک بھٹے پر کام کیا کرتے تھے۔ لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کے تعاون سے انھوں نے گھر واپسی کے لیے آن لائن درخواست کی تھی، لیکن اس پر انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔ متھن نے کہا کہ وہ اور ان کی بیوی 42 دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر ایک پرائیویٹ بس میں سفر کرنے کے لیے 1.2 لاکھ روپے جمع کیے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ سفر کے دوران فاطمہ کی حالت بگڑنے لگی اور بریلی کے بتھری چین پور علاقہ کے پاس قومی شاہراہ 24 پر بس کے ڈرائیور کے ذریعہ متھن اور فاطمہ کو اتار دیا گیا جہاں سے انھیں 108 ایمبولنس ضلع اسپتال لے گئی۔ بس کے ڈرائیور نے ان کے لیے انتظار کرنے سے انکار کر دیا اور دیگر مسافروں کو لے کر منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔
ضلع اسپتال میں فاطمہ کا علاج کر رہی ڈاکٹر ورشا اگروال کا کہنا ہے کہ "خاتون نے بس میں ہی جڑواں بچیوں کو جنم دیا تھا اور یہاں پہنچنے سے پہلے ہی ان بچیوں کی موت ہو گئی۔ خاتون کی حالت ابھی مستحکم ہے، لیکن وہ مایوس ہے۔ وہ صرف چھ مہینے کی حاملہ تھی۔ چونکہ وہ دوسرے ضلع سے سفر کر کے آئی ہے، ایسے میں کورونا انفیکشن کا خطرہ ہو سکتا ہے اس لیے ان کے نمونے کووڈ-19 ٹیسٹ کے لیے بھیجے جائیں گے۔"
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔