
مایاوتی / آئی اے این ایس
بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے ہفتہ کو پارٹی میں خاندانی سیاست کے معاملے پر اپنا موقف واضح کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چھوٹے بھائی آنند کمار کے دونوں بیٹوں آکاش آنند اور ایشان کو پارٹی میں کسی بھی چھوٹے یا بڑے عہدے پر سیاست کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ تاہم، انہوں نے آنند کمار کی بیٹی کماری دیپیکا آنند کو مستقبل میں پارٹی میں ذمہ داری دیے جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ یعنی دیپیکا آگے چل کر مایاوتی کی جانشیں بن سکتی ہیں۔
مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کر کہا کہ ان کی پوری توجہ بہوجن سماج کے مفاد، فلاح اور اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے پر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانشی رام کی طرح انہوں نے بھی اپنے بھائی بہنوں اور ان کے خاندان کے نوجوان افراد کو پارٹی کے کام تک محدود رکھا اور انہیں رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی، وزیر یا کسی دیگر سیاسی فائدے والے عہدے سے دور رکھا۔
مایاوتی کا کہنا ہے کہ غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی دیکھ بھال اور سیکورٹی کے لیے اپنے بھائی بہنوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت پڑی۔ آخرکار ان کے سب سے چھوٹے بھائی آنند کمار طویل عرصے سے ان کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی میں پارٹی کی اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اب آنند کمار کے خاندان کے دیگر افراد کو اس کا سیاسی فائدہ ملنا پارٹی اور تحریک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اسی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آنند کمار کے کسی بھی بیٹے کو بی ایس پی میں کسی چھوٹے یا بڑے عہدے پر سیاست کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
تاہم، مایاوتی نے آنند کمار کی اکلوتی بیٹی کماری دیپیکا آنند کے معاملے میں الگ موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیپیکا فی الحال وکالت کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ مستقبل میں اگر آنند کمار کو ان کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ان کی مدد کر سکتی ہیں۔ ان کی ایمانداری، وفاداری اور کام کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے آگے چل کر انہیں پارٹی میں ضرورت کے مطابق ذمہ داری بھی دی جا سکتی ہے۔ مایاوتی نے واضح کیا کہ آنند کمار کے دونوں بیٹوں آکاش اور ایشان کو وہ اپنی ذمہ داری نہیں سونپیں گی۔ یہی نہیں، انہوں نے مستقبل میں ان کے بچوں کو بھی یہ ذمہ داری دیے جانے سے انکار کیا ہے۔
مایاوتی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر دیپیکا آگے چل کر یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں تو پارٹی کی عام رضامندی سے دلت طبقے کے کسی دوسرے مشنری کارکن کو ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ یعنی مایاوتی نے پارٹی کی مستقبل کی ذمہ داری کو خاندان تک محدود رکھنے کے بجائے تنظیم کے کسی مخلص اور وقف کارکن کو سونپنے کا اختیار بھی کھلا رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانشی رام خاندانی سیاست کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہے تھے اور ان کی شاگردہ ہونے کے ناطے وہ بھی اسی نظریے پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے مفاد میں وہ کسی بھی قسم کے لگاؤ یا خاندانی دباؤ میں نہیں آئیں گی اور بی ایس پی کو کوئی نقصان نہیں ہونے دیں گی۔
بی ایس پی چیف کے مطابق پارٹی تنظیم میں اور مستقبل میں حکومت بننے کی صورت میں بھی کسی ایک شخص کو ذمہ داری ملنے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اس کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی سیاسی فائدہ دیا جائے۔ ان کا مقصد بی ایس پی کو خاندانی سیاست سے پاک رکھنا اور سماج کے تمام طبقات کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سماجی تبدیلی اور معاشی آزادی کی تحریک سے جوڑنا ہے۔ مایاوتی نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا، جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ بدعنوانی یا پارٹی مخالف سرگرمیوں کے سبب بی ایس پی سے نکالے گئے رہنماؤں کو واپس لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسے غلط اور فیک نیوز قرار دیا۔ مایاوتی نے واضح طور پر کہا کہ ایسے لوگوں کو پارٹی میں واپس نہیں لیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔