
ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں پر حملوں کے خلاف وسطی کولکاتا میں ایک روزہ دھرنا شروع کیا۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی کامیابی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جمہوری آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
ممتا بنرجی اس وقت دھرنا گاہ پہنچیں جب کولکاتا پولیس نے ترنمول کانگریس کو رانی رشمونی روڈ پر احتجاجی پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد جماعت نے ایسپلینیڈ کے وائی چینل علاقے میں دھرنے کا اہتمام کیا۔ وہاں موجود کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے ان کے پروگرام پر مختلف پابندیاں عائد کیں۔
Published: undefined
انہوں نے میگا فون کے ذریعے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسٹیج لگانے اور مائیکروفون استعمال کرنے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق یہ اقدامات سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے اور احتجاج کی آواز کو محدود کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ان کی جماعت جمہوری طریقے سے اپنی بات عوام تک پہنچاتی رہے گی۔
دھرنے کے دوران کچھ وقت کے لیے افراتفری کا ماحول بھی دیکھنے میں آیا۔ ممتا بنرجی کی تقریر کے دوران ترنمول کانگریس کے کارکن مسلسل نعرے بازی کرتے رہے، جس سے اجتماع میں خاصا جوش و خروش نظر آیا۔ دھرنے میں جماعت کے کئی سینئر رہنما بھی شریک ہوئے جن میں فرہاد حکیم، مدن مترا، ڈیرک اوبرائن، کلیان بنرجی اور ڈولا سین شامل تھے۔
Published: undefined
تاہم اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے بیشتر نئے اراکین اسمبلی اس پروگرام میں نظر نہیں آئے، جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود جماعتی قیادت نے دھرنے کو بھرپور قرار دیا اور کہا کہ کارکن بڑی تعداد میں شریک ہوئے ہیں۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ احتجاج صرف انتخابی نتائج کے بعد تشدد کے خلاف نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے اور فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے افراد کو ہٹانے کی کارروائیوں کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق دھرنا شام تک جاری رہے گا اور جماعت اپنے مطالبات پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا