قومی خبریں

’ممتا بنرجی گروپ کو 3 اکاؤنٹس کے استعمال کا حق‘، کلکتہ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا سابقہ حکم

جسٹس گوتم بھٹاچاریہ نے کہا کہ ’انتخابی نشان صرف ضمنی انتخاب کے لیے منجمد کیا گیا ہے۔ اس پر الیکشن کمیشن نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں اکاؤنٹ استعمال کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے‘

<div class="paragraphs"><p>سابق وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div>

سابق وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی / آئی اے این ایس

 
Faiyaz Ahmad

کلکتہ ہائی کورٹ نے پیر کو ترنمول کانگریس کے ممتا بنرجی گروپ کو 3 بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم کو جزوی طور پر اور شرائط کے ساتھ استعمال جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ یہ اجازت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب الیکشن کمیشن نے پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کو منجمد کر دیا ہے۔ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی سنگل بنچ نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کا وہ حکم جس کے تحت ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان کو کچھ وقت کے لیے روک دیا گیا ہے، ممتا بنرجی گروپ کو اکاؤنٹس پر اختیار دینے والے عدالت کے سابقہ حکم پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔

جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے یہ بھی بتایا کہ اکاؤنٹس کیسے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی (ممتا گروپ) کے کوئی بھی 2 مجاز افراد تینوں اکاؤنٹ کے چیک پر دستخط کر سکتے ہیں۔ اسپیشل آفیسر چیک پر دستخط کریں گے، پھر بینک پیسہ دے گا۔ جسٹس بھٹاچاریہ نے کہا کہ یہ حکم 29 جنوری 2027 تک نافذ رہے گا۔ ٹی ایم سی (ممتا گروپ) کے وکیل صہیب عالم نے کہا کہ پرامن انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن ذمہ دار ہے۔ انتخابی نشان کسے ملے گا، یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس زیر التوا ہے۔ دونوں گروپ کو نئے انتخابی نشان مل گئے ہیں۔

جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے پوچھا انتخابی نشان اور نام بدلنے کے بعد آپ نے ریاست کی جانب سے کیا انتظامات کیے ہیں؟ ریاست کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل (اے اے جی) راجدیپ مجمدار نے کہا کہ تحقیقات چل رہی ہے۔ ہر اکاؤنٹ میں بہت سارا پیسہ ہے۔ ایک میں تو 25 کروڑ روپے سے زائد ہیں۔ کیس خارج ہونا چاہیے، کیونکہ الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان چھین لیا ہے۔ ایک اسپیشل آفیسر کے ذریعہ 3 بینک اکاؤنٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسے منسوخ کیا جانا چاہیے۔ جو لوگ ان اکاؤنٹ پر دستخط کرتے تھے انہیں کمیشن کی ہدایات کے بعد دستخط کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس کے بعد جسٹس گوتم بھٹاچاریہ نے کہا کہ ’’انتخابی نشان صرف ضمنی انتخاب کے لیے منجمد کیا گیا ہے۔ اس پر الیکشن کمیشن نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں اکاؤنٹ استعمال کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ٹی ایم سی کے ایک رکن اسمبلی کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے پارٹی کے 3 اکاؤنٹس منجمد کر دیے تھے۔ ممتا بنرجی کی ترنمول نے ان اکاؤنٹس میں موجود رقم استعمال کرنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ 9 جولائی کو سماعت کے دوران جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے کہا تھا کہ ترنمول فی الحال ان اکاؤنٹس کا استعمال کر سکے گی۔ تاہم ایک اسپیشل آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ اکاؤنٹس اتنی جلدی منجمد کیوں کیے گئے؟ کیا ثبوت ملے؟ ووٹنگ سے پہلے شکایت کی رپورٹ کیوں نہیں کی گئی؟ جج نے یہ سوالات بھی اٹھائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔