قومی خبریں

کانگریس میں تنظیمی سطح پر بڑی تبدیلی کا اعلان، سچن پائلٹ کو پنجاب اور سرجے والا کو گجرات کی ملی ذمہ داری

پنجاب اسمبلی انتخاب سے چند ماہ قبل نیا ریاستی انچارج منتخب ہونے کے بعد سچن پائلٹ کے لیے کچھ بڑے چیلنجز نظر آ رہے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ وہ کس طرح پوری تنظیم کو جوڑ کر ساتھ لے کر چل پائیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / یو این آئی</p></div>

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / یو این آئی

 

کانگریس نے آج تنظیمی سطح پر کچھ بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ کئی ریاستوں کے انچارج تبدیل کیے گئے ہیں تاکہ تنظیم کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے کچھ نئے اقدامات کیے جا سکیں۔ سچن پائلٹ کو جہاں پنجاب کا انچارج بنایا گیا ہے، وہیں رندیپ سرجے والا کو گجرات، بھوپیش بگھیل کو آسام، سکھ دیو بھگت کو چھتیس گڑھ، سریویلا پرساد کو مہاراشٹر اور پی وی موہن کو آندھرا پردیش کا انچارج بنایا گیا ہے۔ رندیپ سرجے والا کو کرناٹک کی اضافی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ مکل واسنک حسب سابق جنرل سکریٹری برقرار رہیں گے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے پنجاب دورے سے پہلے کانگریس نے بھوپیش بگھیل کی جگہ سچن پائلٹ کو پنجاب کانگریس کا نیا انچارج بنا کر آئندہ اسمبلی انتخابات سے متعلق اپنا رخ واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھوپیش بگھیل، جو پنجاب کانگریس انچارج کے طور پر کام کر رہے تھے، انہیں اب آسام کانگریس کا انچارج بنایا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں اگلے سال اسمبلی انتخاب ہے اور اسمبلی اس کی تیاریوں کے سلسلے میں بھوپیش بگھیل نے پنجاب کا دورہ کیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ پنجاب کانگریس کے لیڈروں میں گروہ بندی کھل کر سامنے آئی تھی، جس کو دیکھتے ہوئے پنجاب کا انچارج تبدیل کیا گیا ہے۔ بھوپیش کی قیادت کو لے کر پنجاب کانگریس کچھ بٹی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ چرنجیت سنگھ چنی گروپ نے کھل کر بھوپیش کی مخالفت شروع کر دی تھی، اسی وجہ سے بھوپیش کو ہٹائے جانے کا اندیشہ پہلے ہی ظاہر کیا جا رہا تھا۔

پنجاب اسمبلی انتخاب سے چند ماہ قبل نیا ریاستی انچارج منتخب ہونے کے بعد سچن پائلٹ کے لیے کچھ بڑے چیلنجز بھی نظر آ رہے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ وہ کس طرح پوری تنظیم کو جوڑ کر ساتھ لے کر چل پائیں گے۔ اس کے علاوہ پنجاب کانگریس میں جاری اندرونی کشمکش کو ختم کرنا بھی سچن پائلٹ کے لیے ایک سخت چیلنج ثابت ہونے والا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔