قومی خبریں

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی اپنے کینیائی ہم منصب موسیس ویٹانگولا سے ملاقات، پارلیمانی تعلقات کو نئی رفتار دینے پر زور

اوم برلا اور کینیا کی نیشنل اسمبلی کے اسپیکر موسیس ویٹانگولا کی ملاقات میں پارلیمانی روابط، مصنوعی ذہانت، تربیت، تعلیم، صحت، بلیو اکنامی اور ڈیجیٹل ترقی میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

نئی دہلی: لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کینیا کی نیشنل اسمبلی کے اسپیکر موسیس فرانسس ایم ویٹانگولا سے ملاقات کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور کینیا کے درمیان تاریخی، دوستانہ اور کثیر جہتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں اوم برلا نے ہندوستان اور کینیا کے درمیان مشترکہ جمہوری اقدار اور تاریخی ورثے کو دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔

انہوں نے پارلیمانی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل پارلیمانی مکالمہ دوطرفہ تعلقات کو نئی توانائی دے سکتا ہے۔

دونوں جانب سے باقاعدہ پارلیمانی مکالمے کو فروغ دینے، پارلیمانی وفود کے تبادلے میں اضافہ کرنے اور اراکین پارلیمنٹ کے درمیان براہ راست رابطے اور شرکت کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک میں حال ہی میں قائم کیے گئے پارلیمانی دوستی گروپوں کو اہم پلیٹ فارم قرار دیا گیا، جو دونوں پارلیمانوں کے درمیان بہتر تفہیم پیدا کرنے اور عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

ملاقات کے دوران ہندوستان کی پارلیمانی تربیت اور صلاحیت سازی کے ادارے پرائڈ (پی آر آئی ڈی ای) کے ذریعے کینیا کے اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمانی حکام کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام منعقد کرنے کی پیشکش بھی کی گئی۔ دونوں فریقوں نے پارلیمانی اداروں کی استعداد بڑھانے اور ایک دوسرے کے تجربات اور بہترین طریقۂ کار سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے پارلیمانی کام کاج میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران دونوں پارلیمانوں کے درمیان تکنیکی تجربات اور بہترین پارلیمانی طریقۂ کار کے تبادلے کے امکانات پر غور کیا گیا، تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پارلیمانی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

بات چیت میں پارلیمانی تعاون کے علاوہ تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، سمندری رابطے، بلیو اکنامی اور ڈیجیٹل ترقی جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں جانب سے عوامی سطح پر روابط (پیپل ٹو پیپل کنکٹ) کو مزید مضبوط بنانے اور ثقافتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ملاقات کے دوران کینیا کی پارلیمنٹ میں مہاتما گاندھی کی مورتی کی تنصیب کو ہندوستان اور کینیا کے درمیان گہرے تاریخی اور دوستانہ تعلقات کی ایک بامعنی علامت قرار دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی روابط اور عوامی سطح کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔