
کانگریس کے خزانچی اجے ماکن / ویڈیو گریب
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اجے ماکن نے ایک تفصیلی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں حدبندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی ناکامی جمہوری نظام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل منظور ہو جاتا تو پورے ملک میں انتخابی حلقوں کی تشکیل ایسے انداز میں کی جا سکتی تھی جس سے ووٹ کی برابری متاثر ہوتی۔
Published: undefined
اجے ماکن کے مطابق گزشتہ 15 برسوں میں 3 مواقع پر حلقہ بندی کی گئی لیکن ہر بار مختلف اصول اپنائے گئے۔ انہوں نے 2008، 2022 اور 2023 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی آئین اور ایک ہی انتخابی کمیشن کے باوجود طریقہ کار میں نمایاں فرق رہا۔ ان کے مطابق 2008 میں مکمل قانونی کمیشن کے ذریعے شفاف عمل اختیار کیا گیا، جبکہ بعد کے برسوں میں اس معیار کو برقرار نہیں رکھا گیا۔
انہوں نے جموں و کشمیر کی 2022 کی حدبندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی اسمبلی نشستوں کی تقسیم میں غیر متوازن رجحان دیکھا گیا، جہاں 7 میں سے 6 نشستیں جموں کو اور صرف ایک کشمیر کو دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ گریز حلقے میں آبادی کا فرق اوسط کے مقابلے میں 72 فیصد تک پہنچ گیا، جو طے شدہ اصولوں سے ہٹ کر تھا۔
Published: undefined
آسام کی 2023 کی حدبندی کے بارے میں اجے ماکن نے کہا کہ یہاں مکمل حدبندی کمیشن قائم نہیں کیا گیا بلکہ ایک مختلف قانونی طریقہ اختیار کیا گیا۔ ان کے مطابق اس عمل میں پرانی مردم شماری کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے اور کئی حلقوں کی تشکیل اس طرح کی گئی جس سے بعض طبقات کی نمائندگی کمزور ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 مسلم اکثریتی حلقوں کو ضم یا تبدیل کیا گیا، جس سے ان کی سیاسی اہمیت کم ہوئی۔
اجے ماکن نے مزید کہا کہ کچھ حلقوں کو درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لیے مخصوص کیا گیا، حالانکہ ان علاقوں میں یہ طبقات اکثریت میں نہیں تھے، جس سے نمائندگی کے توازن پر اثر پڑا۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جمہوری ادارے اب بھی ایسے اقدامات کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں اسی نوعیت کی کوششیں دوبارہ کی جا سکتی ہیں، اس لیے اس معاملے پر مسلسل توجہ ضروری ہے۔
اجے ماکن نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ایسے کسی بھی بل کو نہ صرف مسترد کیا جانا چاہیے بلکہ اس پر کسی قسم کی ترمیم یا تاخیر کے بجائے واضح طور پر رد کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ جمہوری مساوات اور نمائندگی کے بنیادی اصول سے جڑا ہوا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined